انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 540

انوار العلوم جلد ۵ ۵۴۰ ہیں کہ ہم روحانی ترقی کسی طرح حاصل کریں۔ان کا جواب یہ ہے کہ روحانی ترقی حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان اپنے قلب کا مطالعہ کرتا رہے۔روحانی ترقی یہی ہوتی ہے کہ انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مدائح اور مراتب کا حال معلوم ہوتا جائے اور اس کا ذریعہ یہی ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کے قلب میں نیک تحریکیں زیادہ ہوتی ہیں یا بد - اگرنیکی کی تحریکیں زیادہ ہوں تو سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ملائکہ اس کا قدم بڑھا رہے ہیں۔پس بجائے اس کے کہ انسان اپنی نمازوں کو اپنے روزوں کو اپنے چندوں کو دیکھے کہ ان میں میں نے کس قدر ترقی کی ہے اسے یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس کے قلب میں کیا تحریکیں ہوتی ہیں۔اس کا قلب اسے زیادہ نمازہ، زیادہ روزے اور زیادہ نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے یا نہیں۔اگر قلب حکم نہیں دیتا تو سمجھ لے کہ جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف ایک ابتدائی کوشش ہے یا عادت ہے یا ریاء ہے اور خدائی کام نہیں۔اگر نمازیں پانچ چھوڑ دس بھی پڑھتا ہے یعنی علاوہ فرائض کے پانچ وقت نوافل ادا کرتا ہے۔مگر اس کا قلب نماز سے متنفر ہے تو معلوم کرنے کہ ابھی وہ ایسے مقام پر نہیں پہنچا کہ ملائکہ کا اس سے تعلق قائم ہو جائے۔بلکہ ممکن ہے کہ ابھی وہ ابتدائی کوشش کے مقام پر بھی نہیں پہنچا بلکہ اس کا نفس رسماً یا عادتاً یار یاؤ اس سے نمازیں پڑھوا رہا ہے۔اور اگر اسے ابھی عمل کی توفیق نہیں ملی مگر اس کے دل میں نیک تحریکیں پیدا ہو رہی ہیں تو سمجھے کہ فرشتے اس سے تعلق پیدا کر رہے ہیں پس تم اپنی نمازوں ، روزوں وغیرہ سے اپنی حالت کا اندازہ نہ کرو۔بلکہ تمہارے دل میں جو کچھ ہو اس کو دیکھیو۔جن قوموں کے دل خراب ہو جاتے ہیں وہ خواہ ظاہرہ طور یہ ہر کتنی ہی مضبوط ہوں اگر پڑتی ہیں۔روس کو ہی دیکھ لو کتنی بڑی حکومت تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود کی اس کے متعلق چونکہ پیش گوئی تھی اس لئے ان لوگوں کے دل خراب ہو گئے اور اس سے ساری سلطنت خراب ہوگئی۔حالانکہ ظاہری خرابی سے معاً پہلے وہ ایک زبر دست حکومت سمجھی جارہی تھی۔تو کسی انسان کو اپنے متعلقی نمازوں ، روزوں اور زکواۃ سے فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ میں نے نیکی اور تقویٰ میں کس قدر ترقی کی ہے بلکہ اپنے قلب کے اندر جو چیز ہے اس سے اپنی نیکی اور تقویٰ کو دیکھے۔اگر اس کے دل میں نیک تحریکیں بڑھ رہی ہوں تو سمجھ لے کہ ملائکہ کا پرتو جو اس پر پڑتا ہے وہ بڑھ رہا ہے خواہ ابھی تک بعض گناہ اس سے نہ چھوٹے ہوں۔اور اگر بڑائی کی تحریکیں اس کے قلب میں بڑھ رہی ہوں، تو خواہ اچھا کام کر رہا ہو یہی خیال کرے کہ اس کا شیطان سے تعلق بڑھ رہا ہے۔پیس نمازیں زیادہ پڑھنا یا روزے رکھنا ایمان کی علامات نہیں۔تمہیں اپنے قلوب کو دیکھنا اور ان کا مطالعہ کرنا چاہیئے لوگوں کا کام تمہارے متعلق یہ ہے کہ تمہارے اعمال کا مطالعہ کریں لیکن تمہارا کام اپنے متعلق یہ ہے کہ