انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 534

انوار العلوم جلد ۵ منہ گلگیر ترقی کرتا ہے على نكتة الله اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ملتہ تکیہ ترقی کرتا ہے اور ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ ایک لمہ سے دو ہو جاتے ہیں۔اور اگر کسی نے نہ سمجھے ہوں تو پھر بتائے دیتا ہوں کہ اس کے منے تحریک کے ہیں اور اس کی ترقی کرنے کا یہ مطلب ہے کہ فرشتے جو تحریکیں کرتے ہیں وہ بڑھتی جاتی ہیں۔ایک سے دو، دو سے تین ، تین سے چار حتی کہ کئی ہو جاتی ہیں۔جب کوئی شخص ایک تحریک کو قبول کرتے کرتے اس مقام پر آجاتا ہے کہ خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ وہ زیادہ کا مستحق ہے تو اسے اور زیادہ طاقت دے دی جاتی ہے پھر گویا دو فرشتے اس کے اندر تحریک کرتے ہیں۔اس کے دو محافظ ہو جاتے ہیں پھر تین اور اسی طرح بڑھتے جاتے ہیں۔اور یہ بات ہم قانون قدرت میں بھی دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی چیز کا صحیح طور پر استعمال کرتا ہے اس کی اس کے متعلق طاقتیں بڑھ جاتی ہیں۔مثلاً جو لوگ علوم پڑھتے ہیں ان پر نئی نئی باتیں منکشف ہوتی رہتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس اصل کے متعلق فرمایا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاء (العنکبوت : ۷۰) کہ جو لوگ ہمارے رستہ پر چلتے ہیں تو ان کو ہم کئی رستے بتا دیتے ہیں۔جب خدا تعالیٰ تک پہنچانے والے ایک رستہ پر چلتے ہیں تو انہیں قرب کے اور رستے بتا دیئے جاتے ہیں۔یعنی جب وہ ایک نیکی پر عمل کرتے ہیں تو اور نئی نئی نیکیوں کا انہیں علم حاصل ہو جاتا ہے اور وہ ان کو عمل میں لاتے ہیں۔اور ایسی نیکیاں جو پہلے وہم وخیال میں بھی نہیں ہو ئیں خدا کے رستہ میں کوشش کرنے والے کو بتائی جاتی ہیں۔چنانچہ اس کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے۔ایک جگہ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِن كُلُّ نَفْسٍ مَا عَلَيْهَا حَافِظ (الطارق (۵) کہ ہر ایک انسان پر فرشتہ مقرر ہے جو اسے شیطانی تحریکوں سے بچاتا ہے اور نیکی کی تحریکیں کرتا ہے مگر ایک دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان اس فرشتہ کی تحریکوں کو مان لیتا ہے تو ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اب شیطان اس کے ساتھ ہی نہ رہے اور اسے بالکل محفوظ کر دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ انسان کے قلب پر اثر کئی ذرائع سے ہوتا ہے کبھی آنکھ کے ذریعہ، کبھی ناک کے ذریعہ کبھی کان کے ذریعہ کبھی زبان کے ذریعہ غرضیکہ کئی ذرائع ہیں خدا تعالیٰ ان سرب ذرائع کے لئے محافظ مقرر کر دیتا ہے۔گویا جب کوئی انسان نیک تحریکوں کو مانتا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اور فرشتے اس کے محافظ مقرر کر دیتا ہے جو ان دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں جن کے ذریعہ شیطان داخل ہو کر قلب پر اثر