انوارالعلوم (جلد 5) — Page 35
انوار العلوم جلد ۵ صداقت احمدیت ابو قبل کون سا ہے ؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس کو ماروں۔یہ صحابی عبدالرحمن بن عوف تھے جو بڑے بہادر اور جبری تھے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ خیال میرے دل میں بھی نہ تھا کہ میں ابوجہل کو ماروں۔مگر میں نے ابھی ابوجہل کی طرف اشارہ ہی کیا تھا کہ دونوں لڑکے میرے دائیں اور بائیں سے چیل کی طرح بیٹے اور دشمن کے شکر میں گھس کر ابوجہل کو جا مارا۔(بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدرا ) دیکھیو به پندرہ پندرہ برس کے لڑکے تھے۔اس نور کے بغیر جو ان کو حاصل تھا اس عمر کے لڑکے کیا کرتے ہیں یہی کہ شہر کے لڑکے انگریزی کھیلیں کھیلتے ہیں اور گاؤں کے لڑکے دیہاتی کھیلیں۔مگر وہ اپنی جان کی کھیل کھیلتے ہیں اور ایسی بہادری سے کھیلتے ہیں کہ بڑے بڑے بہادر حیران ہو جاتے ہیں۔یہ نظارہ ایک عقلمند اور سمجھدار انسان کو بہت بڑے نتیجہ پر پہنچاتا ہے اور وہ یہ کہ محمد صل اللہ علیہ لکم سب انبیاء سے افضل تھے اور کوئی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پھر قرآن بھی یہی کہتا ہے اور خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں سب انسانوں کا سردار ہوں۔جب ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ جو نبی سب سے افضل ہے وہی سب سے خدا کا پیارا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ رسول اللہ سے پیار اور محبت کے متعلق فرماتا ہے۔قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْكُمُ الله (ال عمران : (۳۲) محمد تو ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس کی فرمانبرداری کرے وہ بھی ہمارا محبوب ہو جاتا ہے۔اس نکتہ کو مد نظر رکھ کر اسلام کی صداقت اور اختلاف فرقنا تے مسلم کا طریق فیصلہ حقیقت کا مجھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے۔پھر عام طور پر مسلمانوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کا فیصلہ بھی اسی کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔کیونکہ جب تجربہ اور مشاہدہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے اعلیٰ اور ہر طرح اور ہر رنگ میں افضل ہیں۔تو اسلام کے ہر مسئلہ کے متعلق غور کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہتے کہ وہی عقیدہ درست اور صحیح ہو سکتا ہے۔جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور سب کمالات کا جامع ہونا ثابت ہو اور میں عقیدہ سے یہ ثابت ہو کہ آپؐ کسی سے افضل نہیں رہتے۔یا اس کے اختیار کرنے سے آپ کے کسی کمال میں نقص پایا جاتا ہے۔تو وہ عقیدہ قطعاً اسلام کے خلاف ، تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہوگا۔وہ اسلام کا پیش کردہ عقیدہ نہیں ہوسکتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کم کرنے والا اور آپ کی عظمت کو بٹہ لگانے والا ہو۔اس نقطہ کو مد نظر رکھتے ہوئے جس میں کسی مسلمان کو خواہ وہ کسی فرقہ کا ہو۔اہلحدیث ہو یا اہلسنت