انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 521

انوارالعلوم جلد ۵ ۵۲۱ ملائكة الله قیامت پر ایمان لانا خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کا ذریعہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا پانچ اور امر ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے :- ملائکہ کتب رسل تقدیر قیامت ان پر ایمان لا ناخدا ہی کی ہستی پر ایمان لانے کے لئے ہے کیونکہ یہ خدا پر ایمان کے حاصل ہونے کے ذرائع ہیں۔ملائکہ کے متعلق تو اس وقت بحث ہی ہے باقی جتنے امور ہیں ان کو دیکھ لو ان پر ایمان لانے کی یہی غرض ہے کہ وہ خدا کی طرف متوجہ کرنے کے محرک ہیں۔اس اصل کے مطابق ہم کہتے ہیں کہ اگر ملائکہ کے ذریعہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پھرتی ہے تو ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔دُنیا میں عام طور پر جو لوگ خدا کو چھوڑتے ہیں وہ اسی دھوکا کی وجہ سے چھوڑتے ہیں کہ ان کی نظر ظاہری اسباب پر ہوتی ہے۔مثلاً کونین کے متعلق جب دیکھتے ہیں کہ اس سے آپ اترتا ہے تو کہتے میں خدا کیا ہوتا ہے یہی ہے جس سے آپ اُترتا ہے اسی طرح اور امور کے متعلق کہتے ہیں اور ظاہری اسباب کو دیکھ کر خدا کا انکار کر دیتے ہیں۔لیکن فرشتوں پر ایمان لانے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر ایک چیز کا آخری سبب فرشتہ ہے اور یہ ایسا حکم ہے کہ ساری سائنس اسی سے نکل آتی ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہر چیز کی اگر حقیقت تم تلاش کرنے لگو گے تو اس کے مخفی در مخفی اسباب نکلتے آئیں گے۔اس وقت جب دنیا چیزوں کے قریب قریب اور ظاہری اسباب سمجھ رہی تھی اس وقت اسلام یہ بتا رہا تھا کہ ہر چیز کے باریک در بار یک اسباب ہیں۔خوردبین نے اب بتایا ہے کہ طاعون کی گلٹی یونی نہیں ہوتی بلکہ اس کا باعث کیڑے ہوتے ہیں وہ ان کی وجہ سے ہوتی ہے۔پھر ان کیڑوں کے پیدا ہونے کے اور اسباب ہیں۔پھر ان کے اور اسباب ہیں۔اسی طرح اسباب در اسباب ہیں۔اپنی اسباب کا آخری اور انتہائی سبب ملائکہ میں اور ان کے اوپر خدا ہے۔تو ملانکہ پر ایمان لانے سے اسباب کی آخری کڑی پر ایمان حاصل ہوتا ہے اور اس سے خدا پر ایمان حاصل ہوتا ہے۔اور ملائکہ پر ایمان لانے کی یہی وجہ ہے۔پھر ایمان قرآن کریم میں اور معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ماننے کو بھی ایمان کہا جاتا ہے۔لیکن صرف کسی وجود کا ماننا ہی نہیں اس کی تحریکات کو مانا بھی ایمان کہلاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالٰی فرماتا ہے :- تُمَنْ يَكْفَرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ