انوارالعلوم (جلد 5) — Page 34
انوار العلوم جلد ۵ نوم بسام عورتوں میں بھی ایسا ہی پایا جاتا تھا۔یہی لڑائی جس میں مشہور ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے جب ختم ہوئی اور لوگ مدینہ کو واپس لوٹے تو ادھر مدینہ کے بچے اور عورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر دیوانہ وار با ہر نکلے۔لڑائی سے واپس آنے والے لوگ آگے آگے جا رہے تھے ان میں سے ایک سے ایک عورت بے تحاشا آکر پوچھتی ہے کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے ؟ اس کے دل میں چونکہ رسول کریم کے متعلق اطمینان اور تسکی تھی اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کر کہا تمہارا باپ مارا گیا۔عورت نے کہا میں نے پوچھا ہے کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا تمہارا بھائی مارا گیا ہے عورت نے کہا ئیں یہ پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔عورت نے کہا میری بات کا تم کیوں جواب نہیں دیتے ہیں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا رسول اللہ زندہ ہیں۔یہ سُن کر اس عورت نے کہا شکر ہے خدا کا۔اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو ہمیں اور کسی کی پروا نہیں۔(سیرت ابن ہشام اردوحصہ دوم ماه مطبوعا مورد ۱۹) اس بات کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس نے عورتوں کا جزع فزع دیکھا ہو کہ اگر کسی عورت کا ایک دن کا بچہ بھی مر جاتا ہے تو کسقدر روتی ہے۔مگر اس عورت کا سارے کا سارا خاندان کہ جس پر اس کا آسرا تھا مارا جاتا ہے وہ کہتی ہے کہ اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو کوئی حرج نہیں یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ تھی جس نے مردوں اور عورتوں میں ایسا اخلاص بھر دیا اور یہ آپ کے سب سے افضل ہونے کا ثبوت ہے جو اور کوئی قوم اپنے نبی کے متعلق پیش نہیں کر سکتی۔پس ثابت ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب انبیائہ سے افضل ہیں اور آپؐ کا درجہ ہر بات میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ نے جو جماعت تیار کی اس کے مردوں عورتوں معنی کہ بچوں میں ایسا اخلاص اور محبت پائی جاتی ہے جس کا نمونہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔دو مسلم بچوں کی بہادری بندر کی لڑائی میں دو پندرہ پندرہ برس کے لڑکوں نے بڑی کوشش سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت حاصل کی۔ایک صحافی کہتے ہیں کہ لڑائی کے وقت یہ دونوں لڑکے میرے دائیں بائیں کھڑے تھے اور میں یہ خیال کر رہا تھا کہ آج میں کسی طرح لڑوں گا۔میرے ساتھ اگر بہادر سپاہی ہوتے تو میں لڑ سکتا۔اب کیا کروں گا۔میں ابھی اسی خیال میں تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کہنی ماری۔اور جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔تو اس نے پوچھا ابو جہل کہاں ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دکھ دیا کرتا ہے ؟ میں ابھی اس کو جواب نہیں دینے پایا تھا کہ دوسرے نے آہستہ سے پوچھا تا کہ دوسرا نہ سُن لے۔چچا !