انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 478

انوار العلوم جلد ۵ علامة الله کے کم ہو گا جس کی دریافت کرنے میں دوستیں لگتی ہیں۔اور جب کوئی شخص کسی بات کو سنتا بھی جائے اور ساتھ ساتھ لکھتا بھی جائے تو اس کی دو طاقتیں خرچ ہوں گی۔اور کیا بلحاظ اس کے کہ اس کی نظر بھی اس بات پر پڑتی جائے گی اور کیا بلحاظ اس کے کہ اس کی قوت ارادی بہت جوش میں ہوگی اس کے دماغ پر زیادہ گہرا اثر پڑے گا۔ہاں وہ لکھنا نہیں جو اخباروں والے لکھتے ہیں کیونکہ ان پر لکھنے کا اتنا زیادہ بوجھ ہوتا ہے کہ ان کو یاد نہیں رہ سکتا۔انہوں نے چونکہ دوسروں کے لئے لکھنا ہوتا ہے اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے ہر لفظ کو محفوظ کرلیں۔لیکن دوسرے چونکہ خلاصہ لکھتے ہیں اس لئے وہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔اور جب غور کر لینے کے بعد لکھتے ہیں تو ان کے حافظہ سے وہ بات باہر نہیں جاسکتی اور جوں جوں وہ لکھیں گے ان کی نظر اس پر پڑتی جائے گی اور اس طرح وہ بات ان کے حافظہ میں اور زیادہ محفوظ ہوتی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے پرانے بزرگ اس بات کی احتیاط کرتے تھے کہ جب درس دیتے تو سننے والوں کو کاپی اور قلم دوات کے بغیر نہ بیٹھنے دیتے۔لکھا ہے که امام مالک درس دیا کرتے تھے ان کے درس میں امام شافعی آگئے۔امام مالک مدینہ میں رہتے تھے اور یہ نکتہ سے گئے تھے۔ان کی عمر بھی چھوٹی تھی۔یعنی تیرہ سال کی تھی۔جب دو تین دن ان کے درس میں بیٹھے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس کاپی اور قلم دوات نہیں۔تو امام مالک نے انہیں کہا ٹڑ کے تو کیوں یہاں بیٹھا کرتا ہے ؟ امام مالک کو برا معلوم ہوا کہ جب درس میں آتا ہے تو لکھتا کیوں نہیں ؟ امام شافعی کو خدا نے ایسا حافظہ دیا تھا کہ جو بات سنتے یاد ہو جاتی۔انہوں نے کہا پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔امام مالک نے کہا پھر لکھتا کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا میں جو کچھ سنتا ہوں یاد ہو جاتا ہے۔امام مالک نے کہا اچھا جو کچھ میں نے پڑھایا ہے سناؤ۔انہوں نے سنا دیا۔امام مالک کے دوسرے شاگرد کہتے ہیں کہ ہماری کا پیوں میں غلطیاں نکلیں مگر انہوں نے صحیح صحیح سنا دیا۔لیکن ایسا ذہن ہر شخص کا نہیں ہو سکتا اس لئے ایسے طریق سے کام لینا چاہئے جس سے حافظہ کی کمزوری کی تلافی ہو سکے۔اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ سنا جائے اسے اپنے طور پر نوٹ کر لیا جائے اس سے یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ انسان اسے بار بار دیکھ کر یاد کرلیتا ہے۔سنتے وقت پوری توجہ کرنی چاہئیے اس کے بعد میں آپ لوگوں کو ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ سُنتے ہوئے پوری توجہ مضمون کی طرف دینی چاہئے کیونکہ جوبات علمی ہو اس کا سمجھنا اور یاد رکھنا آسان بات نہیں۔اس کے لئے جب تک پوری توجہ نہ دی جائے انسان سننے کے بعد ایسا ہی کورے کا کورا اُٹھتا ہے جس طرح