انوارالعلوم (جلد 5) — Page 473
س البربیت انوار العلوم جلد ۵ اصلاح نفس اپس اپنے دلوں سے ہر قسم کا خوف نکال دو اور کریں کن او اور نیتیں کر لو کہ ساری دنیا میں سلام کو پھیلا کے چھوڑیں گے۔تم اس ارادہ اور نیت کو لے کر یہاں سے چلو تاکہ وہ آرزوئیں جو تمہارے متعلق میرے دل میں ہیں وہ پوری ہوں۔اور ان کو پورا ہو تا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔آمین شکر اس پر نہیں کہ ہمیں روشنی پہنچتی ہے اور دوسروں کو نہیں۔بلکہ اس بات پر کہ جبکہ ہر قسم کے سامان مفقود تھے۔اس نے فوق العادت طور پر ہمارے لئے روشنی کا سامان مہیا کیا۔ورنہ مومن کی بچی خوشی اس میں ہے کہ وہ نور جو ا سے پہنچے دوسروں تک بھی پہنچ جائے۔اور وہ کبھی آرام نہیں کرتا جب تک تمام بنی نوع انسان خدا تعالی کی ہدایت کے سورج کے نیچے نہ آجائیں۔علی بن مامون خوارزم بادشاہ۔جس کے دور حکومت میں بو علی سینا (۹۸۰-۱۰۰۱۱۰۳۷ء میں خوارزم گئے۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد اصفحہ ۵۶۱ مطبوعہ لاہور ۱۹۶۳ء) اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ زار روس (او مانوف نکولس ثانی (۶۱۸۶۸-۱۹۱۸ء) اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحه ۴۱ ۷ از سر لفظ " کمولس " مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸م، تو ایک ظالم بادشاہ تھا اس کا سو نا حضرت مسیح موعود کو جو خد اتعالیٰ کے فرستادہ تھے کیو نکر مل سکتا ہے ؟ کیونکہ اس کی حکومت کسی کو ملنے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کی حکومت بھی اسی قسم کی ہوگی بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے سنت ہے اور جیسا کہ وہ صاف طور پر قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيرُ وا مَا بأنفُسِهِمْ (الرعد : (۱۲) وہ اس وقت کسی انعام کو واپس لیتا ہے جبکہ وہ حق کو چھوڑ بیٹھتے ہیں اور خراب ہو جاتے ہیں۔پس زار روس سے حکومت لینے کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ اس ذمہ داری کے ادا کرنے سے قاصر رہا۔جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد تھی اور حضرت مسیح موعود کو اس عصا کے دینے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اب اس ذمہ داری کے اٹھانے کی اہل صرف آپ کی جماعت ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ روس کے باشندوں کے احمدی مسلمان ہونے کے بعد وہاں ایک ایسا ا من کا دور چلے گا کہ باقی دنیا اس کو دیکھ کر رشک کرے گی اور وہ حکومت امن وانصاف کی محمد اور محافظ ہو گی۔انشاء اللہ۔واللہ اعلم بالصواب۔