انوارالعلوم (جلد 5) — Page 28
جلد ۵ غیر رسول کوئی ہو کسی ملک کا رہنے والا ہو، کسی تمدن کی اتباع کرنے والا ہو، کوئی زبان بولنے والا ہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ہرگز نہیں کھڑا ہو سکتا۔یہ صرف دعوی نہیں بلکہ ایک صداقت اور حقیقت ہے صداقت عظمتِ رسول اکرم جس کے دلائل موجود ہیں۔خالی دعوای تو ہر شخص پیش کر سکتا ہے۔ایک ہندو بھی کہہ سکتا ہے کہ تمہارا کیا حق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہے۔ہمارے او تا رسب سے اعلیٰ ہیں۔ہم احمدیت کے رو سے یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوؤں میں بھی او تار گذرے ہیں مگر یہ نہیں مان سکتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اوتار افضل گذرا ہے۔مگر ایک ہندو کا حق ہے کہ وہ دعوی کرے کہ ہمارا فلاں او تا رسب انسانوں سے افضل ہے۔اسی طرح ایک عیسائی بھی کہتا ہے کہ یسوع میے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہے۔یہودی بھی کہتا ہے کہ حضرت موسی سب سے افضل ہیں۔اسی طرح دیگر مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے بزرگوں کو سب سے افضل بتاتے ہیں۔لیکن ان کے اور ہمارے دعوی میں بہت بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ ہمارے دعوای کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔مگر ان کے پاس اپنے دعوی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا نبی یا ہمارا اوتار یا ہمارا خداوند مسیح سب سے افضل ہے مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکتے اور ہم جو سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہیں تو اس کا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں جو روز روشن کی طرح ظاہر ہے۔ہاں اگر ہمارے پاس بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کی طرح ثبوت اور دلائل نہ ہوتے تو ہمارا بھی حق نہ تھا کہ یہ دعوامی کرتے مگر خدا کے فضل سے ہمارے پاس ثبوت اور اور دلائل موجود ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں لیکن دوسرے لوگ محض ضد اور تعقیب سے ایسا دعوی کرتے ہیں۔ان کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنی ہی چیز کو اچھا کے اور دوسروں کے پاس خواہ اس سے اچھی چیز موجود ہو اسے بُرا قرار دے۔کر شمہ الفت و محبت کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا ایک دن جب کہ اس کا دربار لگا ہوا تھا اس نے اپنے ایک غلام کو ٹوپی دی اور کہا جولڑ کا سب سے خوبصورت ہو اس کے سر پر رکھ دو۔وہ ٹوپی لے کر گیا اور اپنے میلے کچیلے لڑکے کے سر پر رکھ آیا جس کے ہونٹ بہت موٹے تھے ناک بہ رہی تھی اور آنکھیں چندھائی ہوئی تھیں۔بادشاہ نے اس سے پوچھا یہ تم نے کیا گیا۔اس نے کہا بادشاہ سلامت مجھے یہی لڑکا سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے اس لئے اسی کے سر پر ٹوپی رکھ آیا ہوں۔تو یہ عام قاعدہ ہے کہ اپنی ہی چیز کو اعلیٰ اور سب سے افضل قرار دیا