انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 429

انوار العلوم جلد ۴۲۹ اصلاح نفس سنائی جارہی ہیں۔مگر یاد رکھو پرانی چیز وہ ہوتی ہے جس کو استعمال میں لے آئیں۔اور جب تک اسے استعمال نہ کیا جائے وہ پرانی نہیں ہوتی۔جو کچھ میں آپ لوگوں کو سنا چکا ہوں جب تک اس پر تمہارا عمل نہ دکھیوں اور جو کپڑے میں پہنانا چاہتا ہوں ان کو تمہارے جسم پر نہ دیکھیوں میں ان باتوں کو نیں چھوڑونگا اور بار بار کہتا رہوں گا۔اگر تم اپنی ضد پر قائم ہو کہ سن لیا اور عمل نہ کیا تو میں بھی اپنی ضد پر قائم ہوں کہ تمہیں سناتا ر ہوں۔وہ لوگ جو ان باتوں کو مانتے نہیں ان کی اور میری لڑائی ہے اور میں دیکھوں گا کہ کس کا استقلال قائم رہتا ہے ؟ مگر میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ فائدہ اسی میں ہے کہ ان کا استقلال قائم نہ رہے اور میرا قائم رہے کیونکہ ان کا استقلال قابل فخر استقلال نہیں ہے بلکہ استقلال تو اسے کہا ہی نہیں جا سکتا۔کسی شاعر نے کہا ہے۔معلوم نہیں اس نے تو کس نیت سے کہا ہے مگر مجھے بہت پسند ہے۔کہتا ہے۔ت وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں ٹبک مریبن کے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو ؟ یعنی وہ اپنا طریق نہیں چھوڑتا تو ہم کیوں چھوڑیں ؟ اور کیوں اپنی حالت بدلیں ؟ ہم نے جو حالت بنائی ہوئی ہے اس میں اگر ہم اس سے پوچھیں کہ ہم پر کیوں ظلم کرتے ہو ؟ تو وہ سمجھے گا کہ ہمارے ہوش و حواس درست ہیں۔یسی تمہارا اور میرا معاملہ ہے۔جب تک تم اپنی حالت کو نہ بد لو گے میں بھی اپنے رنگ نہیں بدلوں گا۔میں اس وقت تک ان باتوں کو کہتار ہوں گا جب تک تم ان پر عمل پیرا نہ ہو جاؤ اور اس لباس کو مین نہ لو۔جب تم ایسا کر لو گے تو پھر مجھے نئی باتیں کہنے کا موقع ملے گا۔اصلاح نفس کی اقسام میں بتا رہا تھا کہ اسلام نفس دو قسم کی ہوتی ہے اور اسلام نے دونوں قسم کی اصلاحوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ایک اپنی اصلاح اور دوم دوسروں کی اصلاح۔پھر آگے اصلاح کی دو قسمیں ہیں۔بدی کو دور کرنا۔اس کو عبادت ترکیہ کہتے ہیں۔(۲) عبادت فعلیہ جس کا اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔تو دو قسم کے کام انسان کے ذمہ ہیں۔ایک ایسے جو اختیار کرنے والے ہیں اور دوسرے ایسے جن کا چھوڑ نا ضروری ہے۔