انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 419

انوار العلوم جلد ۵ ۴۱۹ اصلاح نفس دیکھو جرمنی نے محض اس خیال سے جنگ شروع کی کہ اس نے سمجھا کہ انگریزوں کے ممالک میں بغاوت ہو جائے گی۔ورنہ اگر اسے یہ یقین ہوتا کہ انگریزوں کی ساری رعایا لڑ کر مر جائے گی مگر اپنی حکومت سے بغاوت نہ کرے گی تو وہ کبھی جنگ نہ کرتا۔پس جس ملک کے متعلق دشمن کو یہ یقین ہو کہ وہاں کا ہر فرد اپنی گورنمنٹ کا وفادار رہے گا لڑ کر مر جائے گا مگر ہتھیار نہ ڈالے گا وہاں کبھی حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے گا۔ایک گورنمنٹ دوسری گورنمنٹ پر بھی چڑھائی کرتی ہے جب وہ جانتی ہے کہ اس کے افراد میں وفاداری نہیں رہے گی۔یہ لالچ اس کو خراب کرنا اور حملہ کرنے کی جرات دلاتا ہے۔یہ تعلیم جو مسیح موعود نے اپنی جماعت کو دی ہے کہ میں سلطنت میں کوئی ہو اس کی وفاداری کرکے ا اگر دنیا اس پر عمل پیرا ہو جائے تو آج امن قائم ہو جائے اور تمام فساد دُور ہو جائیں۔پھر ہم گورنمنٹ کی اس لئے وفاداری کرتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت عظیم الشان کام در پیش ہے اور اسے سر انجام دینے کے لئے امن کی ضرورت ہے۔دوسروں کو تو یہ فکر ہے کہ فلاں ملک کسی طرح مل جائے۔مگر ہمیں یہ خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت آجائے۔اور جس شخص کے سامنے کوئی بہت بڑا مقصد ہوتا ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوا کرتا اور جس شخص نے ایک لیسے سفر پر جانا ہو وہ تھوڑے سے نقصان کی کوئی پرواہ نہیں کیا کرتا۔مثلاً کسی کا ایک روپیہ گر پڑے اور اسے ریل پر جانا ہو جو آگئی ہو تو کیا وہ رو پیر کی تلاش میں بیٹھ جائے گا ؟ اور ریل پر نہیں جائے گا ؟ نہیں وہ ایسا نہیں کرے گا اور اگر بیٹھے گا تو بیوقوف کہلائے گا۔بیس ہمارا کام چونکہ بہت بڑا ہے اس لئے ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے۔دوسروں کو تو یہ خیال ہے کہ ترکوں کی بادشاہت جا رہی ہے اس کو قائم کریں۔مگر ہم کہتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت سے لوگ نکل رہے ہیں ہم اس کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔وہ تو کھلونے کے جانے پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں مگر ہم حقیقت کے جانے پر متفکر ہو رہے ہیں۔اگر ان میں اسلام کی سچی تڑپ تھی اور اسلام سے فی الواقع انہیں محبت تھی تو جب اسلام مٹ رہا تھا اس وقت وہ کہاں تھے ؟ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتابوں میں بار بار لکھا کہ مسلمانو ! کچھ ہوش کرو لاکھوں مسلمان عیسائی ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ ولم کو گالیاں دے رہے ہیں۔کوئی فکر کرو۔مگر انہیں اس وقت قطعاً غصہ نہ آیا اور ذرا بھی توجہ نہ کی۔اب کہتے ہیں کہ اسلام کے مٹنے پر ہم ناراض ہو رہے ہیں۔حالانکہ یہ اسلام کے مٹنے پر ناراض نہیں ہو رہے بلکہ ترکوں کے مٹنے پر ناراض ہو رہے ہیں۔