انوارالعلوم (جلد 5) — Page 408
انوار العلوم : شناخت بخشی ہے۔میں ہم اس کے لئے جس قدر بھی شکر کریں کم ہے۔اس کے بعد میں مشکلات کے زمانے میں خدا تعالیٰ کا ڈھارس دینا اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر کرتا ہوں کہ اس نے اس مشکلات اور تکالیف کے وقت جب کہ میں نے دیکھا کہ دنیا خطرناک حالات میں مبتلا ہے اس وقت اس نے میرے دل کو ڈھارس دی اور یقین دلایا کہ اس جماعت پر وہ ضرور اپنا فضل کرے گا۔میں بالعموم اپنی رؤیا اور کشوف کا اظہار نہیں کیا کرتا۔کیونکہ میرے نزدیک یہ ماموروں کا کام ہے۔مگر بعض اوقات احباب کا یقین بڑھانے کے لئے اور انہیں تسلی دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اپنی رؤیا بیان کی جائے۔اسی لئے خدا نے موجودہ حالات میں مجھے جو بشارت دی ہے وہ مناتا ہوں تاکہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اس کے ذریعہ میرا دل خوش کیا ہے اسی طرح تمہارا دل بھی خوش ہو جائے۔چند دن ہوئے میں نے ایک نظارہ دیکھا جس میں مجھے بتایا گیا کہ بعض لوگوں کو کچھ استان آئے ہیں۔اسی کو دیکھ کر میری طبیعت بہت گھبرائی اور میں خدا تعالیٰ کے حضور جھکا اور گیا اور کہاکہ خدا تعا ان پر رحم کرے ان کے گناہوں کی پردہ پوشی کرنے اور ان کے گناہوں کو مٹا دے۔اس دُعا کے بعد جبکہ جلسہ کے دن قریب تھے بلکہ آہی گئے تھے۔یعنی پرسوں کی بات ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں بیٹھا ہوا ہوں اور ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جو میرے ماموں ہیں وہ آئے ہیں۔میں نے ایک یسے تجربہ کے بعد یہ بات معلوم کی ہے کہ اسماء کے ساتھ رویاء اور کشوف کا خاص تعلق ہوتا ہے اور مجھے جو خدا تعالیٰ سے قبولیت کا تعلق ہے اس کے متعلق میں نے دیکھا کہ اٹھانوے فیصدی انہیں کو دیکھتا ہوں۔ان کا نام ہے " اسماعیل۔جس کے معنی ہیں خدا نے سُن لی۔جب میں کوئی دُعا کرتا ہوں تو یہی مجھے دکھائے جاتے ہیں۔ہاں کبھی الیسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کسی ملک کے ذریعہ بتا دیتا ہے اور کبھی خود جلوہ نمائی کرتا ہے۔تو میں نے دیکھا کہ وہ آئے ہیں اور ہشاش بشاش ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگ آرہے ہیں اور وہ اتنے خوش معلوم ہوتے ہیں اور آنے والوں کا ایمان اتنا ترقی یافتہ ہے کہ انہوں نے ان کے چہروں سے دیکھ لیا ہے۔جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ نور ان کے چہروں سے ٹیکتا ہے۔جب انہوں نے یہ کہا کہ لوگ آرہے ہیں اور ایمان اور اخلاص کے ساتھ آرہے ہیں۔تو اسی وقت جوش سے میری زبان