انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 379

انوار العلوم جلد ۵ ۳۷۹ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب مسلمانوں کی طرف سے مذہبی نمائندہ ہونے کا دعوی کیا ہے اور نہ ان کے مذہبی خیالات کو مسلمانوں نے کبھی صحیح تسلیم کیا ہے بلکہ وہ ہمیشہ ان کے خلاف عقیدہ رکھتے رہے ہیں اور ان کے خیالات کی عام طور پر بھی اور ان کی کتب کو مد نظر رکھ کر بھی تردید ہوتی رہی ہے۔نہیں ان لوگوں کا بیان انہی کے خلاف تو دلیل ہو سکتا ہے باقی مسلمانوں یا اسلام کے خلاف کسی صورت میں بھی حجت نہیں ہو سکتا۔اور اگر ان کا قول باوجود تمام مذکورہ بالا وجوہ کے اسلام کے خلاف حجت ہو سکتا ہے تو پھر بعض ہندو صاحبان کے وہ اقوال بھی جو میں نے اپنے مضمون میں لکھے ہیں دیدک دھرم کے خلاف ضرور استعمال ہو سکتے ہیں۔اس وقت توں نے بتایا ہے کہ اگر تسلیم کر لیا جائے کہ جو پروفیسر صاحب کا پیش کردہ قاعدہ غلط ہے اس پر امیر ام وی صاحب نے قائم کی ہے وہ درس کے تب بھی جن لوگوں کے اقوال سے پروفیسر رام دیو صاحب نے استدلال کیا ہے انکے اقوال خود انہی کے قائم کردہ اصل کے مطابق اسلام کے خلاف حجت نہیں۔گراب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پروفیسر رام دیو صاحب نے جو قاعدہ بتایا ہے و ہی غلط ہے۔اول دلیل اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ یہ بات ہی ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایک تعلیم کو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بھی مانے اور پھر اس کے بعض حصوں کو کمزور بھی کئے کیونکہ اگر کوئی شخص خدا تعالی کو مانتا ہے اور پھر اسبات پر بھی ایمان لاتا ہے کہ وہ بندوں کی ہدایت کے لیئے کلام بھی کرتا ہے اور بعض خاص بندوں کو اپنی مرضی بنانے کیلئے چین لیتا ہے اور پھر ایک خاص تعلیم پر یقین رکھتا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اس نے خود نازل فرمائی ہے اور اس زمانہ کے لئے واجب اعمل ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے بعض حصوں کو وہ رد کر دے اور کسے کہ یہ ناقابل عمل ہیں۔کیونکہ اس کے یہ معنے ہونگے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کو مانتے ہوئے یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے زیادہ جانتا ہے اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون سے بہتر قانون تجویز کر سکتا ہے اور اس قسم کا آدمی تجویز کرنا عقل کے خلاف ہے۔کوئی عقلمند آدمی ایسا نہیں مل سکتا جو صدق دل کے ساتھ ایسا دعویٰ کر سکے اگر کوئی شخص اس قسم کا ملے تو وہ ضرور یا تو پاگل ہوگا یا نیم پاگل کہ وہ اپنے دعوائے کے بالہداہت باطل ہونے کو سمجھ ہی نہیں سکتا یا فریبی ہو گا کہ ظاہر میں اپنے آپ کو ایک مذہب کا پیرو قرار دیگا لیکن باطن میں اس کی بیکنی کرنے کے درپے ہو گا اور دوست بن کر اس سے دشمنی کرنا چاہے گا اور ان دونوں صورتوں میں اس کے قول کو دوسروں پر حجت نہیں قرار دیا جاسکتا۔کیونکہ اگروہ پاگل ہے تب بھی