انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 327

انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۷ اسلام اور حریت و مساوات حدیث سے کیوں استدلال کیا گیا خواجہ صاحب کو شکایت ہے کہ میں نے اپنے مضمون میں حدیث سے کیوں استدلال کیا اور یہ کر جب اصول اسلام پر بحث ہو تو صرف قرآن کریم سے بحث ہوگی۔کیونکہ احادیث موضوع بھی ہیں اور ضعیف بھی اور پھر خاص حالات کے ماتحت ہیں اور اگر وہ صحیح بھی ہوں تو بھی کتاب اللہ کے سوا کسی شخص کا فیصلہ ماننا خواہ وہ نبی یا رسول ہی کیوں نہ ہو۔ارباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ (ال عمران : ۶۵) کی ذیل میں آجاتا ہے۔خواجہ صاحب کے اس بیان سے تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔(۱) یہ کہ میں نے حدیث سے کیوں استدلال کیا۔قرآن کریم سے کیوں نہ کیا ؟ (۲) حدیث نکلنی اور ضعیف اور موضوع ہے اور خاص حالات کے ماتحت ہے۔(۳) اگر حدیث صحیح بھی ہو تو بھی کتاب اللہ کے سوا کسی دوسرے شخص کا فیصلہ ماننا البابا مِن دُونِ اللہ کے ذیل میں داخل ہے۔سوال اول کا تو یہ جواب ہے کہ میں تو احادیث نبی کریم کو مناسب تحقیق و تدقیق کے ماتحت نہایت ضروری یقین کرتا ہوں۔اور سنت کے بغیر تو اسلام میں ایک ناقابل تلافی رخنہ پڑ جاتا ہے پس اگر میں سنت و حدیث سے استدلال کروں تو قابل تعجب نہیں۔دوم جس قدر امور مہمہ تھے سب کے لئے میں نے آیات قرآنیہ سے استدلال کیا تھا۔ہاں احادیث کو بطور تا نید کے بیان کیا تھا۔اور اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ خواجہ صاحب احادیث کے منکر ہیں تو پھر میں کبھی احادیث سے مسائل شرعیہ کے متعلق استنباط نہ کرتا۔مگر چونکہ مجھے ان کے عقیدہ کا علم نہ تھا اس لئے عام عالم اسلام پر قیاس کر کے نہیں نے ان کے جواب میں بعض احادیث کو بھی بیان کر دیا۔دوسرا اس کا جواب یہ ہے کہ خواجہ صاحب کو حدیث کی کمزوری تب اگر معلوم ہوئی ہے جب ان کے مقابلہ میں احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔ورنہ انہوں نے اپنے پہلے مضمون میں خود احادیث سے استدلال کیا ہے۔چنانچہ لَا فَضْلَ لِعَرَبِيّ عَلى العجمي (مسند احمد بن حنبل جلده صفحه (الم) کی حدیث اور خدا تعالیٰ کی زمین اور اس کے بندوں سے برتری تلاش نہ کرو کی حدیث انہوں نے اپنے پہلے مضمون میں بیان کر کے اس پر خاص زور دیا ہے۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ بعض احادیث ان کے خلاف پڑتی ہیں تو ان کو موضوع اور ضعیف قرار دینا شروع کر دیا۔ضد و تعصب بھی انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔اگر خواجہ صاحب کہیں کہ میں تو ان مضامین کی تائید میں احادیث لا یا تھا جو قرآن کریم سے ثابت ہیں تو میرا بھی ان کو یہی جواب ہے کہ میں بھی احادیث ان ہی مضامین کی تائید میں لایا تھا جو قرآن کریم سے