انوارالعلوم (جلد 5) — Page 12
انوار العلوم جلد ۵ قیام توحید کیلئے غیرت جب ناصرہ کو برا کہا جاتا ہے۔گھر ایک یہودی کو اس وقت طیش آتا ہے جب پیر مسلم کو بُرا کہا جائے دیکھو غصہ میں فرق نہیں۔غصہ سب کو آتا ہے۔مگر غصہ کے آنے کے مقامات میں اختلاف ہے۔غصہ کے آنے میں افریقہ کے حبشی اور انگلستان، امریکہ کے سفید منہ والے دونوں برابر ہیں۔مگر ان سب کو ایک ہی بات پر غصہ نہیں آتا بلکہ ان کو غصہ آنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہیں۔ایک ہندو ایک بکرے کو ذبح ہوتا دیکھ کر رحم کھاتا ہے۔مگر ایک مسلمان بکرے کو ذبح ہوتا دیکھ کر رحم کے جذبہ سے متاثر نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ اس کو اپنی خوراک خیال کرتا ہے اور ایک قاعدہ جاریہ خیال کرتا ہے لیکن ایک ہندو ایک جانور کو ذبح ہوتے دیکھ کر رحم کائے گا۔مگر ایک مسلمان کو اس جرم پر مارتے ہوئے اس کے دل میں رقم پیدانہ ہوگا۔پس عادت ، رسم و رواج او تعلیم وغیرہ رح کی تعلیم نہیںکرتے کیونکہ وہ فطری جذبہ ہے ہاں یہ باتیں رحم کے مقام کی تعلیم کرتی ہیں۔پس رحم فطرتی امر ہے لیکن رحم کے مقام فطری امر ہیں مثلاً نہیں ایک شخص عیسائی ہو جائے یا مسلمان ہو جائے۔تو پہلے جن باتوں کی مہتک سے اس کو غصہ یا جن چیزوں پر ظلم اس کے رحم کو کھینچتا تھا اس میں فرق آکر اس کے مقام بدل جائیں گے۔ان فطرتی جذبات میں سے ایک امر غیرت بھی ہے۔فلسفی کہتے ہیں کہ غیرت سکھائی جذ بہ غیرت جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بعض علاقے اس قسم کے ہیں کہ وہاں بہن کی شادی بھائی سے ہو جاتی ہے مگر غیرت کے متعلق ان کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا مقام سکھایا جاتا ہے اور ہر جگہ غیرت کے اظہار کے لئے جدا جدا مقام ہوتے ہیں بعض لوگ عزت وناموس کے لئے غیرت مند نہیں ہوتے۔بعض مال کے لئے ہوتے ہیں، بعض مال کی پرواہ نہیں کرتے مگر ملکوں کے لئے مرتے ہیں۔ان کی عزت و آبرو جائے ، ننگ و ناموس مٹے تو مٹے ، مگر وہ اس بات کو گوارا نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص ان کے ملک کی زمین کے چپہ پر بھی قابض ہو۔مگر ایک اور لوگ ہوتے ہیں جن کو مال و عزت ، تنگ دملک کے لئے کوئی غیرت نہیں ہوتی۔البتہ وہ تجارت پر جان لڑا دیتے ہیں۔یورپ کے دفلسفی اس نکتہ کو نہیں سمجھتے جو کہتے ہیں کہ یہ جذبات پیدا کئے جا سکتے ہیں اور غیرت وغیرہ شکھائی جاتی ہے۔کیونکہ یہ باتیں ہر قوم میں فطرتاً پیدا شدہ ہوتی ہیں مگر ان کے مقامات سکھائے جاتے ہیں۔پس یہ امور فطرتی ہیں اور ان کے استعمال نسبتی امور ہیں۔ہاں تو غیرت جو ایک فطرتی جذبہ ہے کئی رنگ میں ظاہر ہوتی ہے جو چیز جس کو محبوب ہوتی ہے ، وہ اسی کے لئے غیرت دکھاتا ہے ایک دلیر اور شجاع کو مال کے چوری ہو جانے ازراعت کے برباد ہونے ، تجارت کے خراب ہونے سے غیرت نہیں آئیگی۔مگر جب وہ میدان جنگ میں جائیگا تو اس کی غیرت جوش میں آئیگی اور اس۔