انوارالعلوم (جلد 5) — Page 11
انوار العلوم جلد لله قیام توحید کیلئے غیرت قیام توحید کیلئے غیرت ) حضرت خلیفتہ ایسیح الثانی نے ولایت میں احمدیہ مسجد بنانے کے متعلق کے جنوری ۱۹۲۰ شہ کو بعد نماز عصر حسب ذیل تقریر فرمائی ) حضور نے تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ نے بعض باتیں ایسی رکھی انسانی پیدائش میں فطرتی با تیں ہیں کون تو رسم ورواج اور عادات کسی کی طرز پر حال دیتے ہیں مگر ان کی اصلیت نہیں بدل سکتی۔مثلاً غصہ ہے یہ ایک فطری امر ہے۔یہ اور بات ہے کہ عیسائی کو کسی اور امر پر غصہ آئے۔میں یہ تو ممکن ہے کہ ہر قوم کے شخص کو مختلف وجوہ پر غصہ آئے لیکن یہ نہیں کہ غصہ بعد میں پیدا کیا جاتا ہو۔کوئی فلسفہ ثابت نہیں کر سکتا کہ غصہ بعد میں پیدا ہوتا ہے یا سکھایا جاتا ہے۔ہاں تعلیم اور مختلف اثرات کے ماتحت غصہ کا مقام بدل جاتا ہے۔ایک مسلمان کو اس وقت غصہ آئے گا جب اللہ کو بُرا کہا جائے۔ایک عیسائی کو غصہ آئے گا مگر اس وقت جب خدا کیے بیٹے کی شان میں کچھ بڑے الفاظ کے جائیں۔ایک ہندو کو اللہ کے لفظ پر غصہ نہ آئیگا۔بلکہ بعض اوقات کوئی بُری طبیعت کا ہندو اللہ کو بُرا کہ جائیگا مگر اس کو اس وقت غصہ آئے گا جب بر تما، شو و غیر ناموں کو برا کہا جائے۔اسی طرح ایک مسلمان کو اس وقت غصہ آئیگا جب بیت اللہ کو گالی دی جائے لیکن ایک ہندو کو بیت اللہ کے بُرے کیے جاتے وقت بُرا معلوم نہ ہو گا۔ہاں جب بنارس کی ہتک کی جانے تب اس کو جوش آئے گا۔مگر ایک عیسائی کا غصہ ان دونوں سے علیحدہ ہے وہ نہ بیت اللہ کو بُرا کہنے سے ناراض ہوتا ہے نہ بنارس کو۔بلکہ اس کو اس وقت غصہ آتا ہے