انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 265

انوار العلوم جلد ۵۔۲۶۵۰ ترک موالات اور احکام اسلام اور دوستانہ تعلق رکھنا منع ہیں اور اگر وہ باز نہ آوے تو یہ سمجھا جاوے گا کہ وہ بھی ان ہی کے سے خیالات رکھتا ہے۔دوسری قسم ترک موالات کی جو قوم قوم سے کرتی ہے اس کا موقع استعمال تب ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم مسلمانوں سے مذہبی جنگ چھیڑے اور جبراً ان سے ان کا مذہب چھڑوائے اس وقت مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ اس قوم کے لوگوں سے دوستی محبت اور معاملات کے تعلق چھوڑ دیں اور اگر بعض مسلمان خود ایسے کفار کے ملک میں رہتے ہوں تو پھر ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس ملک سے ہجرت کر جاویں اور دوسرے بھائیوں سے مل کر جہاد کریں اور اپنے بھائیوں کی طرح ان کفار سے قطع تعلق کر لیں ورنہ وہ بھی کفار ہی سمجھے جاویں گے۔اگر اسی حالت میں مرگئے تو جہنم میں جاویں گے یہ اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ ایسے موقع پر وہ اسی ملک میں رہ کر ترک موالات کر سکتے ہیں اور شریعت فساد کو نا پسند کرتی ہے اور اپنے دشمن کے ملک میں بھی فساد پھیلانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔غرض یہ دو کم ترک موالات کے متعلق ہیں اور دونوں حکم انگریزوں پر چسپاں نہیں ہوتے اور ان حکموں کا ان پر چسپاں کرنا گویا قرآن کریم کے احکام کو مروڑنا ہے جو ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اگر کوئی شخص خیال کرتا ہے کہ واقع میں بحیثیت قوم ان کے متعلق ترک موالات کا فتوی لگانا اسلام کے مطابق ہے تو پھر اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان کے ملک سے ہجرت کر کے اور ان کے خلاف مسلمانوں سے مل کر جہاد کرے۔ایک تیسری قسم کی ترک موالات ان دو قسم کی ترک مالات کے سوا ایک ور قسم بھی ترک موالات کی ہے لیکن وہ حکومت کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکتی بلکہ حکومت اس کا حکم دیتی ہے اور وہ ترک موالات وہ ہے جس کا حکم رسول کریم صلی الہ علیہ سلم نے ان تین صحابیوں کے متعلق دیا تھا جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔واقعہ مخلصین ان کا واقعہ مختصر یوں ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو آپ نے سب مسلمانوں کوحکم دیا کہ سب ساتھ چلیں مسلمان تو سب تیار ہوگئے منافقین پیچھے رہ گئے لیکن بعض غلطیوں کی وجہ سے تین مسلمان بھی ساتھ جانے سے رہ گئے۔ان میں سے ایک کعب ابن مالک اپنا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس اس وقت سامان تو سب تھا مگر وہ پھلوں اور سائیوں کا زمانہ تھا اور میں ان کا بڑا شائق تھا ئیں نے کہا کہ میں عین وقت پر انتظام کرلوں گا۔آخر