انوارالعلوم (جلد 5) — Page 249
انوار العلوم جلد ۵ ۲۴۹ ترک موالات اور احکام اسلام کی امداد ہو یعنی ایسی مدد ہو نہیں میں ہم حاکم ہوں اور وہ ماتحت ہوں۔پس اگر یہ فتوی وہی ہے جوخدا تعالیٰ نے دیا ہے اور وہی حالات ہیں جن میں ترک موالات کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔تو پھر پروگرام مقر نہیں ہو سکتے، کسی قسم کی موالات معاف نہیں ہو سکتی ، نفع اور نقصان کو نہیں سوچا جا سکتا۔لیکن اگر یہ پروگرام شریعت اسلام کا نہیں بلکہ مسٹر گاندھی کا ہے۔تو پھر اس کو شریعیت کی طرف منسوب کرنا اور آیات قرآنیہ سے اس کا استدلال کرنا ایک خطرناک گناہ ہے۔اگر ترک موالات کے حامی اسے شریعت کا فرض مقرر کرتے ہیں تو پھر اس طرح عمل کریں جس طرح کہ شریعت نے کہا ہے اور اگر اسے مسٹر گاندھی کا ارشاد قرار دیتے ہیں تو عوام کو قرآن کریم کے نام سے دھوکا نہ دیں اور اسلام کا تمسخر نہ اڑائیں۔کیا اب گورنمنٹ برطانیہ بھی ہمارے پھر اس مسئلہ کے متعلق ایک اور بھی سوال ہے جسے ترک موالات کے حامیوں کو مد نظر رکھنا ساتھ محاربین والا سلوک کرنے کی مجاز ہے ؟ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں قرآن کریم سے ان ہی لوگوں سے ترک موالات کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے جو حربی کفار ہوں تو اب جبکہ حکومت برطانیہ کے خلاف ترک موالات کا فتوی دیا جاتا ہے۔کیا حکومت برطانیہ بھی وہی معاملہ مسلمانوں سے کر سکتی ہے جو دو باہم لڑنے والی تو میں ایک دو میرے سے کرتی ہیں ؟ کیا وہ جس کو چاہیں پکڑ کر قید کر دیں۔ذراسی شورش پر کورٹ مارشل بیٹھا کر لوگوں کو قتل کر دیں ؟ مارشل لاء جاری کر دیں تو سلمان اس کو خوشی سے قبول کریں گے ؟ کیا وہ اس وقت یہی اعتراض نہیں کریں گے کہ ہم تو وفادار رعایا ہیں ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا جاتا ہے ؟ پھر جب انگریزوں کے ساتھ حاکم اور رعایا کے تعلقات قائم ہیں تو ترک موالات کا فتوی کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ترک موالات کا حکم تو اسی وقت ہوتا ہے جب جنگ شروع ہو۔اور اگر ترک موالات کرنے کی شرائط اس وقت پوری ہو گئی ہیں تو حکومت برطانیہ کے لئے بھی جائز ہوگا کہ جس طرح چاہے مسلمانوں سے معاملہ کرے۔اور اس پر ظلم کا الزام نہیں لگ سکے گا کیونکہ محالہ بین کے درمیان بہت سی وہ باتیں جائز ہوتی ہیں جو دوسری صورت میں جائز نہیں ہوتیں۔مگر کوئی شخص اس بات کو قبول نہ کرے گا کہ حکومت برطانیہ کے لئے جائز ہے کہ وہ حربی قوموں والا سلوک ہندوستان کے مسلمانوں سے کرے اسی طرح کوئی عقلمند یہ بھی تسلیم نہ کرے گا کہ شریعت نے جو کم محارب کفار کے متعلق دیا ہے اسے برطانیہ کی حکومت پر چسپاں کیا جائے۔ترک موالات کے ترک موالات کا حکم صرف خلیفہ وقت ہی دے سکتا ہے حامیوں کو اس امر پیمر