انوارالعلوم (جلد 5) — Page 245
انوار العلوم جلد ۵ ۲۴۵ ترک موالات اور احکام اسلام ہے اور خدا اور اس کے رسول صلی الہ علیہ وسلم کی طرف وہ باتیں منسوب کی جارہی ہیں جو انہوں نے نہیں کیں اور اگر فی الواقع انگریز مذہبی جنگ ہی کر رہے ہیں تو پھر شریعت نے ان لوگوں کو کب اختیار دیا ہے کہ یہ شریعت کے احکام کو منسوخ کر کے جو چاہیں حکم دے دیں ؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے مسلمان صرف کفار کے پاس غلہ نہ بیچ کر یا ان سے بات چیت ترک کر کے ان احکام سے آزاد ہو سکتے تھے ؟ جن سے اس وقت بعض لوگ ترک موالات کر کے مسلمانوں کو آزاد کروانا چاہتے ہیں ؟ مولوی محمود الحسن صاحب کا یہ فتوی دینا کہ میں اس وقت تلوار چلانے کا فتوی نہیں دیتا اور ترک موالات کے دوسرے حامیوں کا ان کی رائے سے اتفاق کرنا اور کم سے کم عملاً سب علماء کا تصدیق کرنا دو باتوں میں سے ایک کی طرف ضرور اشارہ کرتا ہے یا تو یہ کہ ترک موالات کا یہ وقت نہیں ہے اور شریعت کے احکام کے ماتحت اس وقت اس کی اجازت نہیں ہے لیکن چونکہ مسلمانوں کے جوش اس وقت تک نہیں بھڑک سکتے جب تک کسی بات کو مذہبی رنگ نہ دیا جاوے اس لئے ترک موالات کو مذہبی جامہ پہنا دیا گیا ہے یا یہ کہ دل سے یہ علماء سمجھتے ہیں کہ ہجرت اور جہاد دونوں اس وقت فرض ہیں لیکن یا تو حکومت سے ڈر کر اس کا نام نہیں لیتے اور ترک موالات جس کی تلقین کرنا قانونی زد سے بچائے رکھتا ہے اس پر زور دیتے ہیں اور یا یہ کہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے ہجرت اور جہاد کا فتوی دیا تو ہمیں بھی اپنا آرام ترک کرنا پڑے گا اور اگر ہم نے اپنے فتوی پر عمل نہ کیا تو لوگ ہم پر اعتراض کریں گے کہ لوگوں کو کہتے ہو خود کیوں عمل نہیں کرتے ؟ اور اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ترک موالات جو تیسرا قدم ہے اس پر تو زور دیا جاتا ہے اور بیچ کے دو قدموں کا ذکر تک نہیں کیا جاتا ؟ کیا اب وہ آیات قرآنیہ جن میں یہ شرائط بتائی گئی ہیں منسوخ کردی گئی ہیں یا لوگوں میں خوف خدا ہی نہیں رہا ؟ کہ جس طرح چاہتے ہیں قرآن کریم کے احکام کو بگاڑ کر پیش کر دیتے ہیں۔کاش ! عقلمند انسان آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ اس طریق کا کس قدر نقصان ہو رہا ہے ؟ موجودہ حالت کے متعلق ترک موالات کے حامیوں کے ضمیر کا فتویٰ کھیری کے ڈپٹی کنر کا قتل ایک بین ثبوت ہے اس امر کا کہ جب حکومت سے ترک موالات کی تعلیم دی جاوے تو لازماً انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسی حکومت کے باقی رکھنے کی کیا حاجت ہے ؟ ان خیال کی اشاعت یقینا فساد