انوارالعلوم (جلد 5) — Page 229
انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۹ ترک موالات اور احکام اسلام آئے۔اور پانچویں آیت میں مدد لینے یا دینے کے متعلق کوئی ارشاد نہیں صرف یہ حکم ہے کہ جولوگ خدا تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہوں ان سے قلبی محبت نہ رکھو۔اور پچھلی دونوں آیتوں میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ افراد کے متعلق ہیں جس شخص میں وہ عیب پایا جائے گا جو ان آیتوں میں بیان کیا گیا ہے اس سے ہم تعلق توڑ دیں گے باقی قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔اسلام نے تنگ دلی نہیں سکھائی اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے تنگ دلی نہیں سکھائی اور ان آیات کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی شخص اسلام پر بغرض تحقیق بھی اعتراض کرے تو ہم اس سے تعلق قطع کر دیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو شخص تمسخر کرے اور حق جوئی اس کے مد نظر نہ ہو بلکہ تحقیر اور سہنسی مذاق اُڑانا مد نظر ہو اس کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا موقوف کر دیں کیونکہ یہ فعل بے غیرتی پر دلالت کرتا ہے اور بے غیرتی نہایت رزیلے اخلاق میں سے ہے۔آیت پیش کرده «الماند : ۱۵۲) اورسید رشید رضا کا ایک واقعہ سید محمد رشید رضا صاحب ایڈیٹر المنار مصر جن سے ہندوستان کے اکثر لوگ واقف ہوں گے کیونکہ وہ نہ میں ندوۃ العلماء کے جلسہ کے پریزیڈنٹ ہونے کے لئے ہندوستان آئے تھے اور ہندوستان کے مشہور مقامات کا ایک دورہ بھی انہوں نے کیا تھا انہوں نے آیت اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصِرى اولياء (المائدة (۵۲) کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے جس کا اس جگہ لکھ دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔وہ لکھتے ہیں کہ سالانہ میں ہیں قسطنطنیہ گیا تھا وہاں کی یونیورسٹی میں میں دینی تعلیم کی حالت دیکھنے گیا۔ایک مدرس اس آیت کی تفسیر بیان کر رہا تھا اور کہ رہا تھا کہ اس آیت سے نکلتا ہے کہ یہود اور نصاری سے بالکل تعلق نہیں رکھنا چاہئے او ان سے دوستی نہیں کرنی چاہئے۔جب وہ مدرس ترکی میں تقریر کر چکا۔ایک طالب علم کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ پھر سلطنت عثمانیہ کیوں ان دونوں قوموں کو پارلیمنٹ کا ممبر بناتی ہے اور وزارت تک کے عہدے دیتی ہے ؟ اس پر مدرس الیسا گھبرایا کہ اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔کیونکہ اگر وہ کہتا کہ یہ حکومت کی غلطی ہے تو ڈر تھا کہ مارا جاتا اور بیضاوی کے لکھے ہوئے معنوں کے سوا اس کے دماغ میں اور کوئی معنے تھے ہی نہیں اس پر میں نے کہا کہ کیا مجھے کچھ کہنے کی اجازت ہے ؟ اس نے اجازت دی اور میں نے اسے ولایۃ کے معنے بتائے اور بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ان قوموں سے کیسے تعلق تھے ؟ پس دلایہ سے مراد ان کفار کی مدد ہے جو بر سر پہ کار تھے ورنہ خود صحابہ رضی اللہ عنم نے اپنے زمانہ حکومت