انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 205

۲۰۵ ترک موالات اور احکام اسلام اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ" میں لکھ چکا ہوں بعض ممالک ترکوں سے ایسے لے لئے گئے ہیں جو ان سے نہیں لینے چاہئیں اور بعض اور علاقوں کو وہ آزادی نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق تھے۔آرمینیا باوجود وحشی ہونے کے آزاد ہے لیکن شام اور عراق اب تک اس آزادی کو حاصل نہیں کر سکے حالانکہ آرمینی بی وقفت بے بس مسلمانوں کے گلے کاٹنے میں لگے ہوئے تھے اس وقت عرب اتحادیوں کی مدد کے لئے اپنے گلے کٹوا رہے تھے۔امیر فصل جس نے اپنے آرام اور اپنے چین کو اتحادیوں کے لئے قربان کر دیا تھا اس کے ساتھ سخت وعدہ خلافی کی گئی ہے اور وہ آج کسمپرسی کی حالت میں ہے کوئی اس کا پرسان حال نہیں۔اتحادیوں نے وعدے ان معنوں میں یہ بات بھی درست ہے کہ اتحادی ونداء کے و عدسے ان معنوں میں پورے نہیں ہوئے جو پورے نہیں کئے جو سمجھے جاتے ہیں معنی کہ اس وقت ان کے سمجھے جاتے تھے جب ان کا اعلان ہوا تھا اور گو وہ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت بھی ہمارا ی مطلب نہ تھا جو لوگ سمجھتے ہیں میگر وہ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ لوگ تو وہی معنی سمجھ سکتے ہیں جو الفاظ سے ظاہر ہوں تاویلات بعیدہ لوگوں کے ذہن میں کیونکر آسکتی ہیں اور ایسے خطرناک موقع پر جب جنگ ہو رہی تھی اگر کوئی ان کے الفاظ پر یہ اعتراض کر بھی بیٹھنا کہ ان کے اور معنی بھی ہو سکتے ہیں تو خود یہی وزراء اس شخص کے اس فعل کو نا پسند کرتے اور فساد پھیلانے والا قرار دیتے ہیں اگر انہوں نے باوجود علم و فضل کے ایسے الفاظ استعمال کئے تھے جن کے عام طور پر اور ہی معنے سمجھنے گئے اور پھر انہوں نے ان معنوں کی دوسرے اوقات میں بھی تردید نہیں کی تو اس غلطی کے ذمہ دار وہی وزراء ہو سکتے تھے نہ کہ دوسرے لوگ اور ان کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ اپنے ملک کی عزت کی حفاظت اور اس کے نیک نام کے قائم رکھنے کے لئے ایسا فیصلہ کرتے جو لوگوں کے دل سے ان کا اعتبار نہ نکال دیتا اور اس احترام کو صدمہ نہ پہنچا تا جو اس ملک کو جس کی خدمت کا بوجھ ان پر رکھا گیا تھا اس سے پہلے حاصل تھا۔مگر اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں تحادیوں کے فیصلہ کی صلاح کیلئے کیا کرنا چاہئے کے نیند کی اصلاح کے لے ہیں کی کرنا چاہئے ؟ میں اس سوال پر اس سے پہلے اپنے مضمون معاہدہ ترکی میں کافی بحث کر چکا ہوں مگر چونکہ اب سوال نے ایک نیا رنگ اختیار کر لیا ہے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے مجھے علم دیا ہے اس کے مطابق میں اپنے بھائیوں کی رہنمائی کروں تا وہ لوگ جونا واقف ہیں واقف ہو جائیں اور تا ایسا نہ ہو کہ غلطی سے لوگ ایسا رستہ اختیار کر لیں جو ان کی ہلاکت کا موجب ہو۔