انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 174

انوار العلوم جلد ۵ ۱۷۴ معاہدہ ترکیہ اور مسا اہم اور وسیع الاثر معاملہ میں اپنے خیالات ظاہر کرنے کے لئے حاضر ہو جاتا۔مگر چونکہ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے جلسوں میں ایسے اشخاص کو جنہیں ذرہ بھر بھی اختلاف رائے ہو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔اس لئے میرا بذاتِ خود آنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔مگر دوسری طرف چونکہ اپنے بھائیوں کی ہمدردی اور ان کی خیر خواہی اور خدمت اسلام کا جوش مجھے اس بات پر بھی مجبور کرتا ہے کہ کوئی سنے نہ سنے۔میں اپنا مشورہ ان تک پہنچا دوں۔میں اس تحریر کے ذریعہ اپنے خیالات سے اس موقع پر تبع ہونے والے احباب کو آگاہ کرتا ہوں اور چند معزز دوستوں کے ہاتھ اس تحریر کو ارسال کرتا ہوں کہ تاجن دوستوں کے دلوں پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریر کا کوئی اثر ہو وہ زبانی بھی میرے قائمقاموں سے اس میں درج شدہ مسائل پر تبادلہ خیالات کر سکیں۔اسے احباب کرام !میں نے ستمبر گذشتہ کے اجتماع کے وقت تحریر کے ذریعہ سے آپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ دولت عالیہ عثمانیہ کے مستقبل کے متعلق جدوجہد کی بنیاد اس امر پر رکھنی چاہئے کہ سلطان ترکی کثیر حصہ مسلمانان کے نزدیک خلیفہ میں اور باقی تمام مسلمان بھی بوجہ ان کے اسلامی بادشاہ ہونے کے ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔اس لئے ان سے معاہدہ صلح کرتے وقت تمام عالم کے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جاوے اور ان سے انہی اصول کے ماتحت معاملہ کیا جاوے جس کے ماتحت دوسری مسیحی حکومتوں سے معاملہ کیا گیا ہے۔اور میں نے بتایا تھا کہ اس طریق پر تمام وہ فرقے جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ ان کا آپس میں کیسا ہی اختلاف ہو اس معاملہ میں اکٹھے ہو سکیں گے لیکن افسوس کہ اس وقت آپ لوگوں کو میرا وہ مشورہ پسند نہ آیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کو یہ بات کہنے کا موقع ملا کہ خلافت عثمانیہ کے متعلق مسلمانوں کی آواز ایک نہیں اور اس لئے یہ کہنا کہ ترکوں کے تعلق تمام مسلمانوں کی ایک رائے ہے درست نہیں۔اگر میرا مشورہ اُس وقت تسلیم کیا جاتا تو احمدیہ جماعت کو خلافت کے مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کے اظہار کی کوئی ضرورت نہ پیش آتی۔اور وہ ترکوں کے لئے انصاف کا جائز طور پر مطالبہ کرنے میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہو سکتی تھی۔اگر اُس وقت میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو شیعہ اصحاب کو جو کروڑوں کی تعداد میں میں علی الاعلان اس تحریک سے اظہار برآمت کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی اور وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ہم زبان ہو کر اس مسئلہ کے متعلق اپنی ہمدردی کا اظہار کر سکتے تھے۔اگر اس وقت میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو عربوں کو اس وقت جب کہ حالات زمانہ سے متاثر ہو کر وہ پھر حکومت ترکیہ سے صلح کرنے پر آمادہ ہو رہے تھے اور ان کی ہمدردی کا جوش ان کے دلوں میں موجزن