انوارالعلوم (جلد 5) — Page xviii
انوار العلوم جلد ۵ اسلام پر ایک آریہ پروفیسر کے اعتراضات کا جواب تعارف كتب ۱۹۲۰ء کے اواخر میں آریہ سماجیوں کی طرف سے لاہور میں قومی امور سے تعلق جلسے منعقد کئے گئے۔انی جلسوں میں گرو کل پارٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رام دیو صاحب نے بھی ایک لیکچر دیا جس کا موضوع یہ تھا کہ بدھ مت مسیحیت اور اسلام زمانہ کے حالات کے مطابق نہیں ہیں اور سائنس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔جبکہ ہندومت جو خود سائنس کا سر چشمہ ہے اسے علوم کی ترقی سے کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا یہی آئندہ دنیا کا مذہب ہوگا۔پروفیسر صاحب کے اس لیکچر کا خلاصہ لاہور کے اخبارہ بندے ماترم نے ۳۰ نومبر نشانہ کی اشاعت میں شائع کیا ریہ اخبار لالہ لاجیت رائے نکالا کرتے تھے جو کہ خود ایک آریہ سماجی تھے۔حضرت مصلح موعود نے پروفیسر صاحب مذکور کے خیالات کا رتو فرمانے کی غرض سے ایک مضمون تحریر فرمایا جو ۱۳ دسمبر شاہ کے الفضل (قادیان میں شائع ہوا جس میں حضور نے پروفیسر رام دیو صاحب کے خیالات کی پر زور تردید فرمائی اور اسلام کی حقانیت پیش فرمائی۔حضور کے اس مضمون کی اشاعت کے بعد پروفیسر رام دیو صاحب نے 14 جنوری 2 کو پرکاش نامی ایک اخبار میں اس کا جواب شائع کروایا۔حضور نے اس کا بھی جواب الجواب تحریر فرمایا جو الفضل کی۔ضروری نہ کی اشاعت میں شائع ہوا اور چونکہ رام دیو صاحب نے اپنے دوسرے مضمون میں قرآن کریم کے الہامی ہونے کے متعلق کچھ اعتراضات پیش کرنے کی اجازت چاہی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ حضور ان اعتراضات کا جواب ارشاد فرمائیں۔تب حضور نے اس دوسرے مضمون میں اعتراضات کے سلسلہ کو ناواجب طوالت سے بچانے کے لئے نو (۹) شرائط پر تحمل تحریری مباحثہ کا طریق پیش فرمایا جسے پروفیسر صاحب نے منظور کر لیا۔اس پر حضور نے ایک تیر امضمون تحریر فرمایا جو مورخہ 6 اپریل سنہ کو الفضل قادیان میں شائع ہوا اس میرے مضمون میں حضور نے اپنی پیش کردہ شرائط کی مزید تفصیلات پیش کرتے ہوئے یہ بھی تحریر فرما یا که : اگر پروفیسر صاحب کو میری ---- تحریر سے اتفاق ہو تو وہ ان تین اعتراضات کو شائع کرا دیں جس کی بناء پر قرآن کریم کے الہامی ہونے میں ان کو کلام ہے