انوارالعلوم (جلد 5) — Page 133
انوار العلوم جلد ۵ ١٣٣ خاتم النبیین کی شان کا اظہار کے فٹ ہ فٹ اور ساڑھے آٹھ فٹ تک کی ویسی ہی چیزیں رکھی جاسکتی ہیں۔تو بڑائی کے ہی معنی ہیں کہ اس کے جو ماتحت ہوں ان کو دیکھا جائے جس قدر کسی کے ماتحت بڑے ہوں گے اسی قدراس کا درجہ بڑا ہو گا۔ورنہ بڑائی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبین ہوئی اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس سے محبت کرے وہ بھی ہمارا محبوب بن جاتا ہے اب اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر یہ خیال کر لیا جائے کہ نبوت جو خدا تعالیٰ کا ایک انعام اور فضل ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے بند ہو گیا ہے تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ ایک دریا بہ رہا ہو اور بڑا پہاڑ اس میں گھر کر اس کو بند کر دے۔گویا یہ کہنا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل دریائے نبوت جاری تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ بالله اس میں پہاڑ کی طرح آپڑے اور اس کو روک دیا۔اب اگر پھسل کر اس دریا کا پانی نکل جائے تو نکل جائے ور نہ پہلے کی طرح وہ نہیں بہہ سکتا۔لیکن یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور عظمت کی علامت نہیں بلکہ عظمت کی علامت تو یہ ہے کہ پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ فیضانِ نبوت جاری ہو۔پس اگر آپ کا درجہ بڑا ہے اور واقع میں بڑا ہے تو ضروری ہے کہ آپ کے ماتحت بھی بڑے بڑے انسان آپ کی اُمت سے پیدا ہوں۔مثلا یہ جو کہتے ہیں کہ فلاں جرنیل ہے تو اس کی عظمت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ کرنیل اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے جتنے بڑے بڑے انسان پیدا ہوں اتنی ہی آپ کی زیادہ عظمت کا اظہار ہوگا۔ہاں اگر کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے آزاد ہو کر اور آپ کی اتباع چھوڑ کر نبی ہونے کا دعوی کرے تو اس سے آپ کی ہتک ہو گی۔لیکن حضرت مرزا صاحب تو کہتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کُفر این بود بخدا سخت کافرم (ازالہ اوہام حصہ اول صفحه ۸۵ ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۵) کہ خدا کے بعد میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں سرشار ہوں اگر اس کا نام گھر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔کیا ایسے نبی کے متعلق کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی ہتک کرنے والا ہے ہرگز نہیں۔بلکہ ایسے نبی تو جتنے بھی آئیں ان کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہو گی۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔تو كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا عله بخاری کتاب المناقب -باب خاتم النبيين