انوارالعلوم (جلد 5) — Page 129
انوار ال ۱۲۹ خاتم النبین کی شان کا اظہار تمام مذاہب میں آنیوالے کا ایک نام کیوں نہ رکھا گیا کوئی کہ سکتا ہے کہ اگر ایک ہی شخص نے آنا تھا تو تمام مذاہب میں اس کا ایک ہی نام کیوں نہ رکھ گیا۔مگر بات یہ ہے کہ اگر ایک ہی نام ہوتا تو ن لوگوں کو یہ علم ہوتا کہ ہم میں نہیں ہوگا وہ اس کے آنے کی پیشگوئی کو مٹانا شروع کر دیتے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے آنیوالے کا نام ان کی اپنی زبان میں رکھا اس لئے انہوں نے سمجھا کہ ہم میں سے ہی آئے گا اور اس کے آنے کی امید کائے بیٹھے رہے کہ اس کے فیصلہ کو مانیں گے۔یہ تدبیر کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے اس خدا نے جو حکمت کے ماتحت کام کرتا ہے کہ سب مذاہب میں پیشگوئی کراکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے اس کا مصداق بھیج دیا۔اب اس بھیجے ہوئے پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم تو ایسے کامل انسان ہوئے ہیں کہ ان کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں مگر مرزا صاحب کا دعوی ہے کہ میں نبی ہوں پھر ہم ان کا یہ دعوی کیونکر مان سکتے ہیں۔ان کے اس فعل سے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسا دعوای کیا ہے نہیں سے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے برخلاف نتیجہ نکلتا ہے۔اس کے لئے ہم یہ دکھیں گے کہ حضرت مرزا صاحب کا دعوی نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور قدرت کو بڑھانے والا ہے یا کم کرنے والا۔میں سمجھتا ہوں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنے سے کم ہوتی ہے تو پھر کسی مسلمان کو اپنا یہ خیال بدلنے میں کوئی عذر نہ ہونا چاہئے۔وفات مسیح اس میں شک نہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے نبوت کا دعوی کیا ہے لیکن اس کے متعلق بیان کرنے سے قبل میں ایک اور عقیدہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو حیات مسیح کا عقیدہ ہے اس کے متعلق جہاں تک ہمیں معلوم ہے وہ یہی ہے کہ حیات مسیح کے عقیدہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک ہے اور مجھے تو اس پر سخت جوش آجاتا ہے کہ کیوں اس طرح حضرت مسیح کو رسول کریم سے بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔دنیا میں کوئی ایسی لغو حرکت نہیں کرتا جیسی حضرت مشیح کو زندہ ماننے والے کرتے ہیں۔عام طور پر لوگ اپنے استاد اور اپنے بزرگ کو بڑھا کر پیش کیا کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوسب سے بڑا درجہ دیا ہے اس کو