انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 73

انوار العلوم جلد ۵ ۷۳ صداقت اسلام ثبوت دے رہے ہیں کہ جس شخص نے یہ خبر دی تھی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور خدا تعالیٰ سے اس کا بہت بڑا تعلق ہے اور اس سے ثابت ہے کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں اب بھی ایسا انسان پیدا ہوتا ہے جس کے دل میں خدا تعالیٰ سے محبت پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس سے اپنی محبت کا ثبوت دیتا ہے۔اسلام کی صداقت میں ایک اور پیشنگوئی پھر لوگ کتے ہیں کہ وہ اسلام کا دشمن تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کا کیسا عاشق تھا۔اس کے اپنے خاندان کے بعض لوگوں نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی تو اس نے ان سے قطع تعلق کر لیا۔اسی خاندان کے ایک حصہ نے جو اسلام کی ہتک کیا کرتا تھا آپ درخواست کی کہ آپ ایک معاملہ میں ہم سے اچھا سلوک کریں۔مرزا صاحب نے کہا اچھا اگر تمہاری سے اصلاح ہو جائے تو ہم سلوک کر دیتے ہیں لیکن چونکہ ان کی اصلاح آپ سے تعلق پیدا کرنے ہوسکتی تھی اس لئے آپ نے کہا کہ تم اپنی لڑکی کا رشتہ مجھ سے کر دو۔انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ کیا تم پھوپھی کی لڑکی سے جو تمہاری بہن ہے شادی کرنا چاہتے ہو۔حضرت صاحب نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو اپنی پھوپھی کی لڑکی سے شادی کی تھی۔کہنے لگے انہوں نے بھی بہن سے شادی کی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تک پر حضرت مرزا صاحب نے انہیں کہا کہ اس پر تمہیں خدا کی گرفت ہو گی۔نادانوں نے اس پر ہنسی اڑائی۔حالانکہ یہ ایک عظیم الشان ثبوت تھا اسلام کی صداقت اور خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ کلام کرنے کا۔چنانچہ جب انہوں نے اس طرح کہا تو انہیں کہا گیا کہ اگر تم نے توبہ نہ کی اور اسی جگہ شادی نہ کی جہاں کے متعلق تم نے ایسے الفاظ کے ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے تو کسی اور جگہ شادی کرنے سے تین سال کے عرصہ میں لڑکی کا باپ اور جس سے شادی کی جائے گی وہ اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔یعنی اس پیشگوئی میں یہ باتیں بتائی گئی تھیں کہ (ا ) لڑکی کی شادی ہونے تک اس کا باپ زندہ رہے گا۔(۲) اگر اس نے کسی اور جگہ لڑکی کا نکاح کر دیا تو نکاح کرنے سے تین سال کے اندر اندر وہ مرجائے گا۔(۳) جس سے اس کی شادی کی جائے گی وہ اڑھائی سال تک مرجائے گا۔(۴) پھر یہ بھی کہا گیا تھا کہ تو بہ کہ تو بہ کر بلا آرہی ہے۔یعنی اگر وہ توبہ کرلیں گے تو بلا ان سے ٹل جائے نی۔اس میں یہ بتایا گیا کہ عورت رجوع کرلے گی۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔اس کے شائع ہونے کے بعد لڑکی کا باپ اس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اس کا نکاح نہیں کرتا۔