انوارالعلوم (جلد 5) — Page viii
الوار العلوم جلد ۵ "ایک ایک اینٹ جو ان کی طرف سے لندن میں مسجد کی رکھی جائے گی وہ گویا ترقی اسلام کی بنیاد کی اینٹ ہو گی۔اس وقت دنیاوی طور پر خواہ کیسے ہی وسیع دماغ کا آدمی ہو وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتا کہ یہ لوگ بھی کچھ کر سکتے ہیں۔اور یہ پیچ ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے مگر خدا تعالیٰ ان سے بہت کچھ کر سکتا ہے" ✿✿✿ صداقت احمدیت سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی الصلح الموعود نے لاہور کے بعض احمدی تاجروں کی درخواست پر افادہ عام کے لئے 19 جنوری شاہ کو بیرون دہی دروازہ صداقت احمدیت" کے عنوان پر ایک لیکچر ارشاد فرمایا جو ان چھے عظیم الشان لیکچروں میں سے ایک ہے جو حضور نے ۱۳ فروری سے ۱۳ فروردی تک لاہور اور امرتسر کے سفر کے دوران مختلف مقامات پر دیئے تھے حضور کا یہ لیکچڑھائی گھنٹے جاری رہا اور غیر از جماعت سامعین اس سے بہت متاثر ہوئے۔(الفضل یکم مارچ شاء صفحہ ۸ ) اسے سب سے پہلے مکرم محمد امین صاحب تاجر کتب قادیان نے کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔اس تبلیغی لیکچر میں حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت پیش فرما کر سچائی کو پرکھنے کا ایک بڑا بھاری معیار پیش فرمایا ہے جس کی بنیاد حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول پر رکھی ہے کہ درخت اپنے پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے۔حضور نے یہ معیار ان الفاظ میں پیش فرمایا ہے :- اسلام کے ہر مسئلہ کے متعلق غور کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہی عقیدہ درست اور صحیح ہو سکتا ہے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور سب کمالات کا جامع ہونا ثابت ہو اور جس عقیدہ سے یہ ثابت ہو کہ آپ کسی سے افضل نہیں رہتے یا اس کے اختیار کرنے سے آپ کے کسی کمال میں نقص پایا جاتا ہے تو وہ عقیدہ قطعاً اسلام کے خلاف، تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہو گا ؟ اس معیار کے مطابق حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش فرمودہ عقائد وفات مسیح کے فوائد اور مسلمانوں کے مروجہ عقیدہ حیات مسیح کے نقصانات بیان فرما کر احمدیت کی صداقت کو