انوارالعلوم (جلد 5) — Page 491
انوار العلوم جلد الذين يحملون العرُ ۴۹۱ ملائكة الله الْعَرُش و وله يُسبّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بهِ وَتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْنُ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (المومن : ٨) اس آیت سے تین قسم کے فرشتوں کا پتہ چلتا ہے۔دو قسم کے فرشتوں کا دلالت النص سے اور میری قسم کے فرشتوں کا اشارۃ النص سے۔کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک تو وہ فرشتے ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور ایک وہ فرشتے ہیں جو عرش کے گرد رہتے ہیں یعنی ایک تو وہ فرشتے ہیں جن کے ذریعہ سے احکام الہی جاری ہوتے ہیں۔اور ایک وہ فرشتے ہیں جو ان کے نائب اور ان کے احکام کو نچلے طبقہ تک لے جانے والے ہیں۔اور اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور طبقہ فرشتوں کا ہے جو ان عرش کے گرد رہنے والے فرشتوں سے بھی نیچے کا ہے۔اور احادیث سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔کیونکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے مختلف اشیاء پر مقرر ہیں پس وہ حَمَلَةٌ العرش اور مَنْ حَوله کے سوا تیری قسم کے فرشتے ہیں۔زرتشتیوں میں بھی اس مسئلہ کا کسی قدر کچھ پتہ لگتا ہے۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ سات فرشتے ہیں جو دنیا کا کام چلاتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ قیامت کو آٹھ فرشتے خدا کے تخت کو اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔تخت سے مراد چاندی سونے کا تخت نہیں بلکہ وہ اعلیٰ صفات مراد ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی الوہیت روشن ہوتی ہے۔اگلے جہان میں وہ آٹھ ملانکہ کے ذریعہ سے ظاہر ہو گی۔مگر اس دنیا میں جیسا کہ استدلال سے ثابت ہوتا ہے سات فرشتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔تو ایک وہ فرشتے ہیں جو خدا کا عرش اُٹھائے ہوئے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو ان سے ادنیٰ ہیں مگر خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ ایسے ہیں جیسے اسسٹنٹ ہوتے ہیں۔اصل کام ان کے سپرد نہیں ہوتا وہ ان کے مددگار ہیں اور تیسرے وہ جو ادنی درجہ کے ہیں۔پس تین قسم کے فرشتے ہیں :۔- وہ جو خدا کی صفات ظاہر کرنے والے ہیں۔وہ جو ان کے مددگار اور خدا کے مقرب ہیں۔وہ جو مختلف چھوٹے چھوٹے کاموں پر متعین ہیں۔اور ان کی تعداد کی تعیین ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- b وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَرَتِكَ إِلَّا هُوَ (المدثر : ۳۲)