انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 433

انوار العلوم جلد ۵ م اصلاح نفس لوگ جو ہم سے علیحدہ ہو گئے ان میں اپنے بھائیوں پر بدلنی کرنے کی عادت تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حضرت صاحب کی نسبت کہہ گزرے کہ آپ جماعت کا روپیہ اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کرلیتے ہیں۔حضرت صاحب کو آخری وقت میں یہ بات معلوم بھی ہو گئی اور آپ نے مجھے فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ نگر کے لئے جو روپیہ آتا ہے اسے میں اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کر لیتا ہوں مگر ان کو معلوم نہیں کہ لوگ جو میرے لئے نذروں کا روپیہ لاتے ہیں میں تو اس میں سے بھی لنگر کے لئے خرچ کرتا ہوں۔چنانچہ میں آپ کے منی آرڈر لایا کرتا تھا اور مجھے خوب معلوم ہے کہ لنگر کا روپیہ بہت تھوڑا آیا کرتا تھا اور اتنا تھوڑا آیا کرتا تھا کہ اس سے خرچ نہ چل سکتا تھا۔پھر ان لوگوں نے اس بدظنی کا خود اعتراف کیا۔ایک دفعہ ایک مجلس میں خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنی طرف تو اس بات کو منسوب نہ کیا مگر اس طرح ذکر کیا کہ کہا جاتا تھا کہ مرزا صاحب لنگر کا روپیہ خود خرچ کر لیا کرتے تھے لیکن لنگر کا انتظام جب سے ہمارے پاس آیا ہے مقروض ہی چلا جا رہا ہے۔اور حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ اگر میں لنگر کا انتظام ان لوگوں کے سپرد کر دوں تو یہ کبھی اسکے اخراجات کو پورا نہ کرسکیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک اس بدظنی کا خمیازہ بھگتا جا رہا ہے کہ لنگر کا فنڈ ہمیشہ مقروض رہتا ہے۔پس بدظنی بہت بڑا گناہ ہے اور خطرناک گناہ ہے اس سے بچو۔جھوٹ ترک کر دو دوسری بات جو قابل ترک ہے۔اور اس کی بھی کثرت سے مثالیں متی ہیں وہ جھوٹ اور جھوٹی شہادت ہے۔یہ ایک خطرناک گناہ ہے بلکہ یوں کہنا چاہتے کہ یہ گنا ہوں کی کلید ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا مجھ میں چار ایسے گناہ ہیں جن کو میں چھوڑ نہیں سکتا ان کے چھوڑنے کا مجھے طریق بتائیے۔آپ نے فرمایا ایک تو چھوڑ دے تین میں چھڑا دوں گا۔اس نے کہا۔بہت اچھا۔آپ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دے۔اس نے کہا اچھا میں جھوٹ چھوڑتا ہوں۔یہ عہد کر کے وہ چلا گیا۔جانے کے بعد جب اسے کسی گناہ کے کرنے کا خیال آیا اور وہ یہ سمجھ کر کرنے لگا کہ اس کے چھوڑنے کا تو میں نے وعدہ نہیں کیا تو اسے خیال آیا کہ اگر اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو سچ کہنا پڑے گا کیونکہ جھوٹ کے چھوڑنے کا وعدہ کر آیا ہوں۔پھر میں کیا جواب دوں گا ؟ اس طرح وہ ایک دن اس کے کرنے سے رک گیا دوسرے دن پھر جب اسے گناہ کرنے کا خیال آیا تو اسی طرح رک گیا۔اور جوں جوں وہ رکتا جاتا اس کی طبیعت میں مضبوعلی آتی جاتی حتی کہ ایک دن وہ رسول کریم صلی اللہ