انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 421

انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۱ اصلاح نفس چیز کی طرف نسبت دے کر پناہ مانگی جاتی ہے دراصل اسی چیز سے پناہ پانا مقصود ہوتا ہے۔مثلاً جب تم گتے ہیں۔اے گئے والے ہمیں بچا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گفتے سے بچا یا اگر کسی ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں کسی نے شیر پالا ہو اور کہیں کہ اسے شیر والے دوڑ یو تو معلوم ہوگا کہ شیر سے بچنے کے لئے کہ رہے ہیں۔اب جب ہم رب - ملک اور اللہ سے پناہ مانگتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان صفات کا جن چیزوں سے تعلق ہے ان سے پناہ چاہتے ہیں پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ تو معلوم ہوا کہ صفت رب کے متعلق کوئی تکلیف ہے اس سے پناہ مانگتے ہیں۔اسی طرح جب کہتے ہیں مَلِكِ النَّاسِ تو معلوم ہوا کہ صفت ملک کے متعلق کوئی تکلیف ہے جس سے بچنا چاہتے ہیں۔اور جب کہتے ہیں اللہ النَّاسِ تو معلوم ہوا کہ صفت الوہیت کے متعلق کوئی تکلیف ہے جس سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔اب دیکھو صفت رب ، مُلک اور اللہ کا کن چیزوں سے تعلق ہے ؟ اور اس کے کون سے فل ہیں ؟ رب کے معنی آقا کے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ آقا کے متعلق جھگڑے ہونے والے ہیں ان سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور یہ جھگڑے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ آقا نوکر سے جھگڑے اور دوسرے یہ کہ نوکر آقا سے جھگڑے ، گویا خدا تعالیٰ سے جو سب کا آتا ہے پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ یا تو دنیا کے آقا نوکروں کو دُکھ دیتے ہیں ، ظلم کرتے ہیں ، تکلیف پہنچاتے ہیں یا نوکر دنیاوی آقاؤں کو تنگ کرتے اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کی صفت ملکیت سے پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ یا تو دنیاوی بادشاہ رعایا پر ظلم کرتے ہیں اور دکھ دیتے ہیں یا رعایا با دشاہ کی بغاوت کرتی ہے۔اسی طرح اللہ سے پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ اس صفت کے اطلال مولویوں، پادریوں اور پنڈتوں سے جو کہ دین کے وارث کہلاتے ہیں لوگوں کو دکھ پہنچتا ہے اس سے پناہ مانگی گئی ہے۔یا لوگوں سے ان کو جو دکھ پہنچتے ہیں ان سے حفاظت چاہی گئی ہے۔م کے فسادوں کی خبر اسی طرح یہ چھ باتیں ان آیت سے نکلتی ہیں اور ان چھ اقسام کے فسادوں کی خبر ان میں دی گئی ہے (یعنی یہ کہ ایک زمانہ میں ایک تو یہ فساد ہوگا کہ نوکر آقا کے خلاف سٹرائیکیش کریں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم اس فتنہ سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو - (۲) یہ کہ آقا اتنے ظالم ہوں گے کہ نوکروں کے حقوق کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے اس لئے تم ایسے آقاؤں کے ظلموں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے STRIKES le