انوارالعلوم (جلد 5) — Page 401
انوار العلوم جلد ۵ ام اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اخبارات میں اس بحث کی اشاعت کے متعلق پروفیسر صاحب نے پسند کیا ہے کہ ان کے سوالات اور میرے جوابات اور پھر جواب الجواب اور پھر اس کا جواب بطور ضمیمہ پر کاش اور الفضل میں شائع ہو جائیں۔پر کاش کے ضمیمہ کا خرچ ان کے ذمہ ہو گا اور الفضل کے ضمیمہ کا خرچ میرے ذمہ میرے نزدیک بہتر تو یہ تھا کہ بجائے الگ ضمیمہ شائع کرنے کے دونوں اخبارات کے ان نمبروں کے جن میں ہمارے سوال و جواب چھپیں صفحات بڑھا دیئے جایا کریں لیکن اگر یہ بات نا ممکن ہو تو یہ ضرور ہونا چاہئے کہ الفضل اور پرکاش دونوں کے ایڈیٹر اس ذمہ داری کو اُٹھائیں کہ وہ خود اطمینان کر لیا کرینگے کہ تمام خریداروں کو ضمیمہ بھیجدیا گیا ہے۔الفضل کی طرف سے میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ اس میں اصل اخبار میں ہی پروفیسر صاحب کے اور میرے مضامین شائع ہونگے اور حسب ضرورت اخبار کے صفحات بڑھا دیئے جایا کرینگے۔پروفیسر صاحب نے اس امر کو بھی منظور کیا ہے کہ مشترکہ خرچ پر اس مباحثہ کے سب مضامین بلا کم و کاست متحدہ انتظام کے ماتحت کتابی صورت میں بھی شائع کرائے جائیں اور بعد میں کتب تقسیم کر لی جائیں۔کلام کے معانی کرنے کے متعلق پروفیسر صاحب نے تسلیم کر لیا ہے کہ سیاق وسباق اور صرف و نحو اور بیان و معانی اور محاورہ زبان اور لغت اور اس کتاب کا محاورہ حجت ہوگا یا سند کے طور پر علوم مسلمہ کو آنی شرائط کے ساتھ جن شرائط کے ساتھ ان کی باتیں تسلیم کی جاتی ہیں پیش کیا جاسکے گا۔یہ بھی پروفیسر صاحب نے تسلیم کر لیا ہے کہ سی مضمون کا جواب تین ماہ سے زائد عرصہ میں شائع نہ ہو گا اگر کسی فریق کی طرف سے اس عرصہ میں جواب شائع نہ ہو تو بحث کا خاتمہ سمجھا جائیگا اور اسی صورت میں مباحثہ کے مضامین شائع کرا دیے جائیں گے۔ت چونکہ سوائے چند باتوں کے جن پر پروفیسر صاحب کو اعتراض تھا باقی سب امور طے شدہ ہیں اور چونکہ ان کے متعلق بھی میں اب وضاحت کر چکا ہوں اس لئے اگر پروفیسر صاحب کو میری اوپر کی تحریر سے اتفاق ہو تو وہ ان تین اعتراضات کو شائع کرا دیں جن کی بناء پر قرآن کریم کے الہامی ہونے میں انکو کلام ہے در ان اعتراضات کو وضاحت سے بیان کر دیں جس کا تصفیہ سب سے پہلے کرنا وہ پسند کرتے ہوں انکے مضمون کے شائع ہونے پر میں ان کا مضمون الفضل میں شائع کروا دونگا اور اپنا جو اب بھی شائع کرا دونگا اور اسی طرح یہ سلسلہ مطابق شرائط چلتا چلا جائیگا۔خاکسار مرزا محمود احمد