انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 374

۳۷۴ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب دیتی ہو ، ان سے مذہبی امور میں مشورہ لیتی ہو مگر یہ بات ہرگز ثابت نہیں نہ سید امیر علی صاحب، نہ مسٹر خدا بخش صاحب، نہ میٹر منظہر الحق صاحب جن لوگوں کے اقوال یا تحریریں پروفیسر صاحب نے نقل کئے ہیں ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کو تمام فرقہ ہائے اسلام تو الگ رہے کسی ایک فرقہ نے بھی کبھی ایک مذہبی عالم واقف شریعیت اور ماہر تسلیم کیا ہو۔مثلا سید امیر علی صاحب ہیں ان کی تمام تر عزت و شہرت ان کی قانونی قابلیت کی وجہ سے ہے یا سیاسی سعی کی وجہ سے اور اب تو مسلمان ان کو سیاسی لیڈر بھی تسلیم نہیں کرتے اور مسٹر دانش صاحب کوکسی رنگ میں بھی مسلمانوں میں کوئی عظمت حامل نہیں ہوئی اور دوسرے صاحبان جن کے آپ نے نام لکھے ہیں وہ خود آپ کے معیار کے مطابق بھی پورے نہیں اتر تے کیونکہ انہوں نے اسلام کی تائید میں کوئی کتاب نہیں لکھی۔پس اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ کسی مذہب کے کسی مقتدر عالم کا قول اس مذہب کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے تو بھی ان لوگوں کے اقوال اسلام کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ لوگ مذہبی عالم کبھی بھی تسلیم نہیں کئے گئے اور کبھی بھی مذہبی امور کے تصفیہ میں ان سے مشورہ نہیں لیا گیا۔اگر ان میں سے بعض نے اسلام کے متعلق کتب بھی لکھی ہیں تو اس سے بھی یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ یہ اسلام کے علما ءمیں سے ہیں اور اس کے نمائندہ ہیں۔نمائندہ تو دوسروں کے تسلیم کرنے سے ہوتا ہے نہ کہ کتاب لکھ دینے سے اگر کوئی شخص آریہ مذہب کے متعلق کوئی کتاب لکھ دے تو کیا وہ اس کا نمائندہ کہلانے لگ جائے گا ؟ کسی قوم کا نمائندہ تو وہی ہے جس کو وہ قوم خود اپنا نمانده نفر کرے یا تسلیم کرے۔ان لوگوں کو کب مسلمانوں نے اپنا مذہبی نمائندہ تسلیم کیا کہ ان کا قول اسلام کے خلاف حجت ہو۔یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ ان صاحبان کو اسلام کی تائید میں کتب لکھنے کے لئے اہل اسلام نے نہیں کہا کہ یہ کتب اہل اسلام کی طرف سے سمجھی جاویں نہ ان کی کتب کے شائع ہونے پر ان کو اسلام کی صحیح ترجمانی کرنے والا قرار دیا گیا ہے پس صرف اس وجہ سے کہ کسی شخص نے اسلام کی تائید میں کتاب لکھی ہے اس شخص کو اسلام کا نمائندہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ اس کی کتاب کو اسلام کی صحیح ترجمانی کہا جا سکتا ہے۔خود آریہ سماج میں بیسیوں مصنف ہیں۔پروفیسر صاحب کبھی جائزہ نہیں رکھیں گے کہ ان میں سے ہر ایک کو آریہ سماج کا نمائندہ قرار دیا جائے یا ان کی ذاتی رائے کو مد نظر رکھ کر آریہ سماج پر حملہ کیا جائے۔رائے اس شخص کی محبت ہو سکتی ہے جو کسی مذہب کا بانی ہو یا کسی جماعت نے خود اس کو اپنا نمائندہ منتخب کیا ہو یا اس کے رائے ظاہر کرنے کے بعد سب نے اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہو۔