انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 312

انوار العلوم جلد اسلام اور حریت و مساوات ہوں گے۔ورنہ اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ ہر شخص اپنی ضرورت کا خود فیصلہ کرے تو پھر بھی مساوات نہیں رہے گی۔کوئی شخص اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور عمدہ سے عمدہ کپڑوں اور وسیع اور کھلے اور آراستہ اور پیراستہ مکانوں اور خوشنما چمنوں اور میوہ دار باغوں کے لئے روپیہ رکھ کر باقی اگر بچے گا تو غرباء میں بانٹ دے گا اور غریب بچارے گاڑھا پہننے اور جھونپٹریوں میں رہنے پر مجبور ہوں گے۔اصل بات یہ ہے کہ اسلام کے احکام کے مطابق یہ فرض ہے ہر مسلمان حکومت کا کہ اس کے ملک کے باشندے فاقہ سے نہ رہیں، اور انکے قابل ستر مقامات کے لئے کپڑا یا کیا جاے گویا انسانی زندگی کی حفاظت پوری طرح ہو اس کے لئے وہ امراء کے مطابق حکم شریعت مال لے کر غرباء پر خرچ کرتی ہے اور اس سے زیادہ جو کچھ خرچ کیا جائے وہ امراء کی اپنی مرضی پر ہے۔اگر نہ کریں تو جرم نہیں۔ہاں اگر زکوۃ دینے کے بعد بھی ایک شخص فاقہ پر مرتا ہوا کسی کو نظر آئے تو اس کا فرض ہے کہ اس کی جان بچانے کی کوشش کرے۔اس دعوئی کا ثبوت اس حدیث سے ملتا ہے جو میں پہلے نقل کر چکا ہوں کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اسلام کیا ہے تو آپ نے اسے اسلام کے اصولی احکام بتائے۔اور ان میں زکواہ کا مسئلہ بھی بیان کیا۔سب کچھ سن کر اس شخص نے کہا کہ میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے اس قول کو پورا کر دیا تو یہ کامیاب ہوگیا۔ربخاری کتاب الایمان باب الركوة من الاسلام اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غرباء کی مدد کے لئے زکوۃ سے زیادہ دینا فرض نہیں۔اگر کوئی زیادہ دے تو یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔خواجہ صاحب نے عظیمت اور فٹے کے مال کی تقسیم میں مساوات کہاں ہے منیر اعوان میں مساوات ثابت کرنے کے لئے نیم اور نے اور نل کے تعلق چند آیات بھی کھی ہی بین و علوم انسے کیا نتیجہ نکالا ہے۔غنیمت کے متعلق انہوں نے یہ آیت لکھی ہے۔واعلموا أَنَّمَا غَنِمْتُهُ مِنْ شَى فَاَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَ لِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرُى وَاليَتمى وَالمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ (الانفال: ۴۲ ) یعنی یاد رکھو کہ جو مال تم کو جنگ میں میں ان میں سے پانچواں حصہ خدا اور اس کے رسول اور قریبیوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے۔اس آیت سے اگر کوئی حکم بھتا تھا تو صرف یہ کہ اسلام نے ہر ایک موقع پر غرباء کی مد کو بدانک