انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 290

انوارالعلوم جلد ۵ ۲۹۰ اسلام اور تربیت و مساواتت اور بعض کے مطابق اسلامی احکام کے رو سے جائز ہوگا اور بعض کے رو سے منع ہو گا اور پھر ان کو یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ اس مضمون میں میں نے اصول کے لفظ کو خاص معنوں میں استعمال کیا ہے۔اور وہ و ہی معنی ہیں کہ جو قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات اور ائمہ اسلام کے استعمال سے ثابت ہوتے ہیں۔سائل سے حریت و مساوات کی تشریح چاہی گئی تھی ہو کہ خواجہ صاحب نے میرے مضمون پر غور نہیں کیا اس لئے ایک تو انہوں نے یہ دھوکا کھایا ہے کہ گویا میں ہر ایک صورت میں حریت و مساوات کو نا جائز سمجھتا ہوں یا اس کا قائم کرنا نا جائز سمجھتا ہوں۔حالانکہ میرے خط کا جو حصہ انہوں نے خود نقل کیا ہے۔اسی سے ان پر ثابت ہو سکتا تھا کہ یہ وہم ان کا غلط ہے۔وہ میرے خط کا یہ حصہ اپنے مضمون میں نقل کرتے ہیں :۔حریت و مساوات اسلام کے بنیادی اُصول میں سے نہیں ہیں۔خود یہ الفاظ ایسے ہم ہیں کہ اپنی بعض تعریفوں کے لحاظ سے اچھے اخلاق بھی نہیں کہلا سکتے۔اس لئے حریت اور مساوات کی جب تک تعریف نہ کی جائے اس وقت نیک نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام انہیں جائز بھی قرار دیتا ہے یا نہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے ذہن میں ان کی کیا تعریف ہے ؟ ہو سکتا ہے کہ کسی تعریف کے ما تحت ان دونوں امور (حریت و مساوات کا خیال رکھنا ایک مسلم کے لئے ضروری ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک دوسری تعریف کے مطابق صرف جائز ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک تیری تعریف کے مطابق ناجائز ہو" میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس عبارت کی موجودگی میں جسے انہوں نے خود نقل کیا ہے وہ یہ نتیجہ کسی طرح نکال سکتے تھے کہ میں نے حریت و مساوات کو اسلامی احکام میں شامل نہیں کیا۔ان الفاظ سے تو صاف ثابت ہے کہ میں سائل کو قائل کرنے کے لئے اور اس کی غلطی پر اسے آگاہ کرنے کے لئے پہلے اس سے حریت و مساوات کی تشریح کرانی چاہتا ہوں۔تاکہ جب وہ خود تشریح کردے۔تو اس کی تصدیق کرنی یا اس کی غلطی نکالنی آسان ہو جائے اور میں نے خود لکھ دیا ہے کہ ان الفاظ کی کئی تشریحیں ہوسکتی ہیں۔بعض کے لحاظ سے ان الفاظ کا معصوم اسلامی اوامر میں شامل ہو جائے گا بعض کے لحاظ سے صرف جائز رہے گا۔اور بعض کے لحاظ سے منع ہو جائے گا۔اگر وہ میرے مضمون پر غور کرتے تو بجائے اس کا جواب لکھنے کے پہلے حریت و مساوات کی تشریح کرتے پھر مجھ سے دریافت کرتے