انوارالعلوم (جلد 5) — Page 262
انوار العلوم جلد ۵ ☑ ترک موالات اور احکام اسلام اسی طرح محفوظ تھیں ؟ بلکہ کیا قومی روح اسی طرح زندہ تھی جس طرح کہ آج کل زندہ ہے ؟ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان کے یہاں آنے کا کیا فائدہ ہوا ؟ میں کہتا ہوں کہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تم آزادی اور حریت کے معنوں سے آشنا ہو گئے ہو جن کو قریباً ایک صدی کی تباہیوں کے عرصہ میں تم بھول گئے تھے۔ہمیں یہ نہیں کہتا کہ پہلے کوئی اس مضمون سے آگاہ نہ تھا مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ بہت کم لوگ ان الفاظ سے آگاہ تھے۔اور جولوگ آگاہ تھے وہ وہی تھے جن کو انگریزوں کے اس ملک پر قابض ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ حکومت میں دخل تھا۔آج لوگ جلیانوالہ باغ کے واقعہ پر شور مچاتے ہیں حالانکہ ان کے آنے سے پہلے بلا وجہ لوگ مارے جاتے تھے اور کوئی نہ پوچھتا تھا۔پنجاب میں اذان دینا جرم تھا۔مسجدیں ویران تھیں بلکہ اصطبل بنائی گئی تھیں۔عربی کے الفاظ استعمال کرنے پر ہی لوگوں کو مار دیا جاتا تھا۔چوری ، قتل ، ڈاکہ ، فساد اس قدر پھیلا ہوا تھا که الامان - یہی وجہ تھی کہ پرانے لوگ انگریزی حکومت کے زیادہ مداح تھے کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب باتیں دیکھی تھیں اور ان کے اثر ابھی ان کے دلوں پر سے مٹے نہ تھے۔پس اس امن کے بعد جو ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے بلکہ اس اتحاد کے بعد جو ان کے ذریعہ قائم ہوا ہے فساد نہیں پھیلانا چاہئے۔لوگ یہ بات نہیں دیکھتے کہ ان ہی کے زمانہ میں ہندوستان نے ایک ملک کی حیثیت پکڑی ہے اس سے پہلے یہ کئی ملکوں کا مجموعہ تھا۔میں اس کا انکار نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ اپنے ساتھ اپنی بدیاں بھی لائے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ان سے ہندوستان کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔جاپان کی مثال کو جانے دو کہ اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں کے حالات بالکل مختلف ہیں۔دوسرے ممالک کو دیکھو کہ وہ ابھی تک ہندوستان سے بھی پیچھے ہیں ہیں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر یہ نہ آتے تو ہم خود یورپ کے علوم کو حاصل کر لیتے ، جاپان کے سواکس ایشیائی ملک نے اپنے طور پر جدید علوم کو حاصل کیا ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا ہے ؟ یقیناً جاپان کے بعد ہندوستان ہی ایسا ملک ہے جو علوم جدیدہ کا حامل کہلا سکتا ہے اگر یہ درست ہوتا کہ ان کے آنے سے نہیں نقصان پہنچا ہے تو یقیناً وہ علاقے جن میں ان کا دخل بعد میں ہوا ہے تعلیم اور سیاسی قابلیت میں دوسرے ممالک سے بڑھے ہوئے ہوتے۔بنگال میں حکومت برطانیہ دوسو سال کے قریب سے قائم ہے اسی طرح مدراس اور بھٹی میں ان کا دخل پرانا ہے۔اور یو پی میں اس کے بعد اور پنجاب میں تو کل ستر اسی سال سے ان کا تصرف ہوا ہے اگر یہ بات درست ہوتی تو چاہئے تھا کہ سیاسی اور علمی قابلیت میں پنجاب سب سے زیادہ ہوتا۔پھر یو۔پی اور پھر بنگال اور مدراس