انوارالعلوم (جلد 5) — Page 247
انوار العلوم جلد ۵ ترک موالات اور احکام اسلام تو پھر انگریزوں پر اعتراض کیا ہے؟ اگر یہ مذہبی جنگ بھی سمجھ لی جاوے تو اس کی ابتداء ترکوں کی طرح سے ہوئی ہے نہ کہ انگریزوں کی طرف سے۔متواتر کئی سال سے انگریز اور دوسرے اتحادی اس بات کو پیش کر رہے ہیں کہ ترکوں نے ہم سے جنگ میں ابتداء کی ہے مگر آج تک اس کا جواب ترک نہیں دے سکتے۔اگر کوئی معقول جواب وہ دے دیتے تو گو دوسرے لوگ اس کو تسلیم نہ کرتے۔مگر کم سے کم ان سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کے دلوں کو تو تسلی ہوتی اور وہ سمجھتے کہ ترک اس لڑائی میں معذور تھے۔اگر بعض خفیہ حالات ایسے موجود بھی تھے جن کا اظہار اب تک نہیں کیا جا سکتا جن کی وجہ سے جنگ ضروری ہوگئی تھی تو بھی اسلام کے احکام کے مطابق ترکوں کو اس وقت تک انتظار کرنا چاہئے تھا جب تک اتحادی حملہ کرتے اور اپنے پرانے معاہدات کو ایک عرصہ پہلے خدا کے حکم کے مطابق منسوخ شدہ قرار دینا چاہئے تھا اور ان کے منسوخ ہونے کی وجوہات بیان کرنی چاہئے تھیں تاکہ دوسروں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتا کہ انہوں نے خلاف عمدہ کام کیا۔لیکن جب ترکوں نے جنگ شروع کر دی تو کیا یہ امید کی جاتی ہے کہ برطانیہ خاموش رہتا ؟ اور اپنی سیاہ کو ہلاک ہونے دیتا اور جواب نہ دیتا ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ برطانیہ اور اتحادی خواہ کسی سبب سے سہی اس امر کو چاہتے تھے کہ ترک یا ان کے ساتھ مل جائیں یا جنگ میں شریک ہی نہ ہوں تاکہ مسلمانوں کی ہمدردی ان کو حاصل رہے لیکن جب ان کی خواہشات کے خلاف ترک شامل ہوئے اور انہوں نے جنگ کی ابتداء کی تو پھر یہ جنگ مذہبی جنگ کی طرح قرار پا سکتی ہے۔میں یہ نہیں کتا کہ ترک بلا وجہ جنگ میں شامل ہو گئے نہ میں یہ کہتا ہوں کہ انہوں نے غلطی کی۔ممکن ہے کہ ان کو اس جنگ میں شامل ہونے میں بعض فوائد نظر آتے ہوں اور نہ شامل ہونے میں نقصان معلوم ہوتا ہو۔لیکن بہر حال جب انہوں نے ابتداء کی تو وہ جنگ مذہبی نہ رہی دنیا دی ہو گئی اور دنیوی فتوحات اور دنیوی فوائد کی جنگوں میں انسان موقع اور محل کو دیکھ کر ابتداء بھی کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ اس کا جنگ کرنا انصاف پر مبنی تھا۔بعض چیزوں کا بائیکاٹ کرنا اور بعض کا نہ کرنا ترک موالات کے حامیوں کا یہ فعل بھی کہ وہ بعض چیزوں کا بھی بتاتا ہے کہ وہ اسے شرعی مسئلہ نہیں سمجھتے بائیکاٹ کرتے ہیں اور بعض کا نہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے شرعی مسئلہ نہیں سمجھتے۔اول تو اگر یہ شرعی مسئلہ ہوتا تو اس سے پہلے ہجرت اور پھر جنگ ہونی چاہئے تھی۔لیکن اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ کسی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے بھی بغیر اس کے مقبوضہ ملک سے ہجرت کرنے کے اور بغیر اس سے جہاد شروع ہونے