انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 239

انوار العلوم جلد ۵ ۲۳۹ ترک موالات اور احکام اسلام سمجھ سکتا تھا کہ اس قدر خطرناک جنگ کے بعد نقشہ وہی نہیں رہ سکتا جس طرح کہ پہلے تھا۔دوم جنگ کے دوران میں ہی اتحادیوں کی طرف سے یہ اعلان ہو چکے تھے کہ جن ممالک کی زیادہ آبادی غیر اقوام کی ہے ان کو ترکوں کے ماتحت نہیں رکھا جاوے گا اور اس شرط کے ماتحت شام، فلسطین، عرب ، عراق وغیرہ علاقے جنگ کے بعد خود بخود ترکوں کے ہاتھ سے نکل جانے تھے اور اس کا علم ساری دنیا کے لوگوں کو تھا۔اگر کسی بات کا علم نہ تھا تو فقط تھر میں اور سمرنا کا۔پس لاعلمی کا دعوی بالکل باطل ہے۔اگر بفرض محال اس وقت ترک موالات فرض ہے پھر اگر بفرض محال مان ہی لیا جاوے کہ انگر میز اب تک بر سر جنگ ہیں تو اس کا پہلا قدم یہاں سے ہجرت ہے اور حربی کافر ہیں تو پھر یاد رکھو کہ تمہارا پیچھا صرف ترک موالات سے نہیں چھوٹ سکتا۔اگر یہ بات درست ہے کہ انگریز حربی کافر ہیں اور اگر یہ بات درست ہے کہ یہ اسلام کے مٹانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں تو ترک موالات بے شک فرض ہے اور اس کا تارک منافق ہے۔لیکن اس سے پہلے ایک اور قدم ہے جس کا اُٹھا نا ضروری ہے۔تم انگریزوں کو حربی کافر قرار دے کر صرف ان کے سکولوں اور کانوں کو تھوڑ کر خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔تم ان کی عدالتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں کر سکتے۔تم ان کے خطاب واپس دے کر اپنی روحوں کو موت سے نہیں بچا سکتے، تم ابھی کونسلوں کا بائیکاٹ کر کے بیچے مسلم نہیں بن سکتے۔بلکہ اس صورت میں تم پر واجب ہے کہ تم اس ملک کو چھوڑ دو جس پر وہ حکمران ہیں یہی قرآن کریم کا حکم ہے اور تمام دنیا کے علماء بھی مل کر اسے چھوڑ کر اور کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے کیونکہ شریعیت کامل ہو چکی ہے اور اب کوئی نیا حکم نہیں آسکتا۔اگر ترک موالات اس وقت فرض ہے تو ترک موالات سے پہلا قدم ہجرت ہے جس کے اُٹھائے بغیر تم ترک موالات نہیں کر سکتے۔ہجرت و ترک موالات وغیرہ احکام ایسے نہیں ہیں کہ جو صرف الفاظ میں محدود ہوں اور عملی طور پر ان کی تفسیر نہ کی گئی ہو۔ان احکام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بار بار صحابہ نے عمل کر کے دکھایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں عمل کر کے دکھایا ہے۔پس ان کی تشریح میں غلطی نہیں ہو سکتی رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت کے بعد مکہ والوں سے مسلمانوں کی جنگ تھی۔ان کے ملک میں ان کے زیر اقتدار مسلمان بھی بہتے تھے لیکن ان کو کبھی بھی ترک موالات کا حکم نہیں دیا گیا۔ترک موالات کا حکم ان لوگوں کے لئے تھا جو کفار کے علاقہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آگئے تھے۔جو لوگ کفار کے ہی علاقہ میں تھے ان کے لئے پہلا حکم ہجرت تھا جب تک وہ ہجرت نہ کرتے وہ مسلمانوں میں شامل ہی نہ ہو سکتے تھے اور اسی لئے اسلامی احکام کے پابند ہی نہ سمجھے جاتے تھے