انوارالعلوم (جلد 5) — Page 227
انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۷ ترک موالات اور احکام اسلام کر اس کو ایک کھیل قرار دیں ایسے لوگوں سے گہرے تعلق نہ رکھو ورنہ تم بھی ان ہی لوگوں میں شامل سمجھے جاؤ گے اور یہ بات بالکل درست ہے کہ جو شخص ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہے جو اس کے دین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور اس سے مہنسی کرتے ہیں اس کو برا نہیں مناتا وہ یا تو دل سے اس دین سے بیزار ہو چکا ہوتا ہے یا اس کے دل کے اندر تغیر پیدا ہونا شروع ہو چکا ہوتا ہے اور تھوڑے عرصہ کے بعد وہ ان ہی لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے۔جب ایمان ہوتا ہے تو غیرت ساتھ ضرور ہوتی ہے ایمان غیرت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جب کوئی شخص یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس سے یا اس کے ماں باپ سے تمسخر کیا جا وے اور ان کو کھیل بنایا جاوے تو وہ اس امر کوکب برداشت کر سکتا ہے کہ دین کے متعلق تمسخر کرنے والوں سے دوستی رکھے۔یہاں دوستی سے کیسی دوستی مراد ہے ؟ اس کی یہاں دوستی سے کیسی دوستی مراد ہے ؟ تشریح ہمیں قرآن کریم کی دوسری آیات سے ° بھی معلوم ہو جاتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي ابْتِنَا فَاعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثِ غَيْرِهِ ، وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا فِي تَقْعُدُ بَعْدَ الذكرى مَعَ القَومِ الظَّلِمینَ ، (الانعام : 49) یعنی " اسے قرآن کے پڑھنے والے جب تو دیکھے ان لوگوں کو جو تمہاری آیتوں میں بیہودہ بکواس کرتے اور ان کی تکذیب کرتے ہیں تو ان سے علیحدہ ہو جا یہاں تک کہ وہ اور باتوں میں مشغول ہوں اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھے “ اسی طرح ایک اور آیت میں جس کے متعلق میں پہلے تفصیل بیان کر چکا ہوں آتا ہے۔وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الكِتُبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ أَنتِ اللهِ يَكْفَرُبِهَا وَيُسْتَهُذَا بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمُ حَتَّى يَخُوضُوا في حَدِيثِ غَيْره۔نكُمْ إِذَا مِثْلُهُمْ (النساء : ۱۴۱) یعنی خدا تعالیٰ نے تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کر چھوڑا ہوا ہے کہ جب تم سنو کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے اور ان سے مہنسی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اور باتوں میں لگ جاویں ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں آیات اللہ سے ہنسی ہوتی ہو وہاں نہیں بیٹھنا چاہئے اور آیات جواد پر بیان ہوئیں ان میں بھی یہی ذکر ہے که ان میبود و نصاری اور دیگر کافروں سے دوستی نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے سہنسی کرتے ہیں پس ان آیات کا یہی مطلب ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ زیادہ تعلق نہ رکھو اور ان سے زیادہ موجلو ہیں اور کسی سیاسی مسئلہ کا یہاں ذکر نہیں بلکہ اس دوستی کا ذکر ہے جو ایک شخص دوسرے سے کرتا ہے اور اس ١٤١ {