انوارالعلوم (جلد 5) — Page 194
۱۹۴ لوج المدى -10 -14 -14 - A ایک آدمی بھی اسلام سے باہر ہے تمہارا فرض ادا نہیں ہوا اور ممکن ہے کہ وہ ایک آدمی کفر کا بیج بن کر ایک درخت اور درخت سے جنگل بن جائے۔سب سے پہلا فرض اصلاح نفس ہے اگر اس کے فلم ہوتے رہیں اوران کی اصلاح نہ ہو تو دوسروں کی اصلاح تم کو اس قدر نفع نہیں پہنچا سکتی۔انسان نیکی کرتے کرتے کبھی خدا تعالیٰ کا پیارا بننے والا ہوتا ہے کہ احسان جتا کر پھر میں آگرتا ہے جہاں سے ترقی شروع کی تھی۔اور چوٹی پر پہنچ کر گر جاتا ہے اس کی ہمیشہ احتیاط رکھنی چاہئے۔کیونکہ وہ محنت جو ضائع ہو جاتی ہے حوصلہ کو پست کر دیتی ہے۔صفائی اچھی چیز ہے مگر نازک بدنی اور جسم کے سنگار میں مشغول رہنا اور حسن ظاہری کی فکر میں رہنا یہ مرد کا کام نہیں عورتوں کو خدا تعالٰی نے اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ علاوہ دوسرے فرائض کی ادائیگی کے جو بحیثیت انسان ہونے کے ان کے ذمہ ہیں مرد کی اس خواہش کو بھی پورا کریں۔مرد کے ذمہ جو کام لگائے گئے ہیں وہ جفاکشی اور محنت کی برداشت کی عادت چاہتے ہیں ہیں جسم کو سختی برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور چونکہ ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے اس لئے زینت اور سنگار میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔جس طرح بڑی چیز اچھی شکل میں پیش ہو جائے تو دھوکا لگ جاتا ہے اس طرح کبھی اچھی چیز کے اندر بری مل جاتی ہے اور اس کے اثر کو خراب کر دیتی ہے پس ہر ایک کام کو کرتے وقت اور ہر ایک خیال کو قبول کرتے وقت یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ اس کا کوئی سیلو تو برا نہیں۔اگر مخفی طور پر اس میں برائی ملی ہوئی ہو تو اس سے بچنا چاہئے۔وا۔بعض لوگ دینی کاموں میں حصہ لینے سے اس خیال سے ڈرتے ہیں کہ لوگ بُرا کہیں گے یا ہنسی کریں گے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بدنام ہونا ہی اصل عزت ہے۔اور کبھی کسی نے دینی عزت حاصل نہیں کی جب تک دنیا میں پاگل اور قابل ہنسی نہیں سمجھا گیا۔یعنی جو کچھ دین کی محبت اور خدا تعالیٰ سے عشق کے متعلق ہم سے سیکھ چکے ہو اس کو خوب یاد کرو۔البیا نہ ہو کہ ریسبی کچار ہے اور قیامت کے دن سنانہ سکو اور ہیں جنہیں اس سبق کے پڑھانے کا کام سپرد کیا ہے شرمندگی اٹھانی پڑے۔دوسروں کے شاگرد فرفر سنا جاویں اور تم یوں ہی رہ جاؤ۔والسلام مع الاکرام -** خاکسار مرزا محمد احمد خلیفہ اسیح الثانی