انوارالعلوم (جلد 5) — Page 81
انوار العلوم جلد لله صداقت اسلام وہ جاتا ہے۔پھر میں ان لوگوں سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں لیکن ہماری جماعت میں داخل نہیں ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم مستعد ہو کر اسلام کو دنیا میں پھیلا دیں۔تمہارے سامنے وہ شخص گزر گیا جس نے اپنا سب کچھ اسلام کی اشاعت میں لگا دیا۔کیا تم نے ابھی تک غور نہیں کیا کہ اس کی کوشش کیا تھی ؟ کیا یہ کہ وہ اسلام کو مٹانے کے لئے پیدا ہوا تھا یایہ کہ دن رات اسلام کے لئے مرتا تھا۔اس کو ذیا بیطیس کا مرض تھا ، اسے جگر کی بیماری تھی، اسے ہسٹیریا کا عارضہ تھا مگر با وجود ان بیماریوں کے ہم نے اسے دیکھا کہ ہر وقت اور ہر گھڑی اس کی بھی کوشش تھی کہ اسلام دنیا میں پھیلے اور اسی میں وہ ہر وقت لگا رہتا تھا۔کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والا دل اسلام سے محبت رکھنے والا دل اس کی طرف بڑھنے سے ڈرسکتا ہے، اس سے علیحدہ رہ سکتا ہے ، اس کو چھوڑ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا اس نے قرآن میں کوئی نقص بتایا ؟ کیا اس نے اسلام کی تعلیم کو تبدیل کر دیا ؟ یا کیا اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ؟ اگر نہیں اور اس کا مشن ہی یہ تھا کہ اسلام کو دنیا میں پھیلایا جائے۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ جو لوگ اپنا یہی مقصد قرار دیتے ہیں اس کے جھنڈے کے نیچے نہیں آجاتے۔وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں اس تعصب اور ضد کو جانے دیں جو منصف مزاج لوگوں میں نہیں ہوتی۔اگر انہوں نے ایسا کیا تو یقیناً یہی معلوم ہو جائے گا کہ خُدا نے اسے اسی لئے بھیجا تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت قائم کرے جودنیا میں اسلام کو پھیلائے پس مسلمان اس پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس وقت اسلام کی کیا حالت ہے۔پس اے عزیزو! اے بھائیو !! اے پیارو !!! اس وقت کو پہچانو اور اس وقت کو دیکھو۔کیا اس حالت کو دیکھ کر تمہیں رحم نہیں آتا۔شوق نہیں ہوتا کہ تم بھی اسلام کی اشاعت کے لئے قدم بڑھاؤ۔دیکھو اور یاد رکھو کہ اس وقت اسلام کے لئے خدا کی غیرت جوش میں ہے۔اسلام کے مخالفین نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے تلوار کے زور سے اسلام کو پھیلایا ورنہ اسلام میں کوئی خوبی نہیں ہے کہ پھیل سکے۔خدا تعالیٰ نے کہا یہ غلط ہے۔اسلام دلائل کے زور سے پھیلا تھا۔اب جب کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا غلام دلائل کے ذریعہ اسلام کو پھیلا سکتا ہے تو اس کا آقا کیوں اس طرح نہ پھیلا سکتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تلوار نہیں اُٹھائی تھی بلکہ پہل دشمن نے کی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خود حفاظتی کے لئے تلوار ہاتھ میں لی تھی۔مگر واقعات کے مخفی ہونے کی وجہ سے لوگوں نے کہا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تھا اسکے جواب میں خدا کی غیرت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کو کھڑا کر دیا تا کہ وہ دلائل کے ذریعہ اسلام کو پھیلائے۔