انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 74

انوار العلوم جلد ۵ صداقت اسلام پھر جب وہ نکاح کرتا ہے اور نکاح کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں گزرتے کہ اس پیش گوئی کے ماتحت مرجاتا ہے۔پھر جیسا کہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ رجوع کرلیں گے تو بلا مل جائے گی۔باقی لوگ رجوع کرتے ہیں اور اس عورت کی طرف سے پیغام آتا ہے کہ اس معاملہ میں میرا تو کوئی قصور نہیں مجھے معاف کیا جائے۔اس طرح گویا وہ اسلام کی بنک سے تو یہ کرتی ہے پھر دوسرے رشتہ دار بھی تو بہ کرتے ہیں اور اس طرح پیش گوئی کا دوسرا حصہ جو تو بہ کرنے پر لا کے ٹلنے کی صورت میں ظاہر ہونا تھا پورا ہوتا ہے چنانچہ وہ عورت اور اس کا خاوند اب تک زندہ ہیں۔ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ ان کا نہ مرنا اس پیش گوئی کے جھوٹا ہونے کا ثبوت ہے۔لیکن دراصل ان کا زندہ رہنا پیش گوئی کے سچا ہونے کا ثبوت ہے۔کیونکہ اس پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ خوبی تُونِي فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عَقِبِكِ تذکره صفر۱۳۵ ایدین بیارم یعنی اگر تو بہ کریں تو بلا ٹل جائے گی جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بنگ آمیز الفاظ استعمال کئے تھے اس کی لڑکی کے خاوند کا مرنا اس کے لئے عذاب تھا۔اگر وہ توبہ کرلیتی تو یہ عذاب ہٹا دیا جاتا۔کیونکہ اگر با وجود اس کے توبہ کرنے کے اس عذاب کو ہٹایا نہ جاتا تو یہ پیشگوئی غلط نکلتی۔لیکن چونکہ اس نے توبہ کی اس لئے یہ عذاب ہٹا دیا گیا اور اسے معاف کر دیا گیا۔پھر اس لڑکی کی جس شخص سے شادی ہوئی تھی اس نے ایک خط لکھا جس میں حضرت مرزا صاحب کی تعریف کی۔پھر اس لڑکی کے اور رشتہ داروں نے بھی تو بہ کر لی اور اس طرح یہ پیش گوئی پوری ہوئی اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر پیش گوئی پوری نہ ہو سکتی تھی اور کہا جاسکتا تھا کہ یہ پیشگوئی ایک بالا رادہ کام کرنے والی ہستی کی طرف سے نہ تھی کیونکہ فرض کرو ایک مکان پر پہاڑ سے پتھر گرتا ہے اور صاحب مکان کے بھائی بیٹے اور دوسرے رشتہ دار اس کے نیچے دب کر مر جاتے ہیں۔اس کے متعلق کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ مالک مکان نے اپنے ارادے سے پھر گرایا تھا۔کیونکہ اگر وہ ارادہ سے پتھر گرا تا تواپنے رشتہ داروں کو ضرور خبر کر دیتا اور انہیں بچالیتا اور اپنے دشمنوں کو ہلاک ہونے دیتا۔تو بالا رادہ وہی فعل کہلا سکتا ہے جو انسان کے اعمال کے مطابق ہو۔دیکھو پولیس ارادہ سے اسی کو پکڑتی ہے جو مجرم ہوتا ہے غیر مجرم کو نہیں پکڑتی۔یہ ممکن ہے کہ غلطی سے کسی غیر مجرم کو پکڑے لیکن عقل اور سمجھ کے ماتحت یہی ہوتا ہے کہ مجرم کو گرفتار کیا جاتا ہے۔اسی طرح اگر مجسٹریٹ کسی بے قصور کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سزا دینے کی طاقت نہیں رکھتا بلکہ یہی کہا جائے گا کہ وہ ارادہ کے ماتحت کام کرتا ہے۔پس اگر تو بہ کرنے پر بھی وہ لوگ ہلاک کئے جاتے تو کہا جا سکتا تھا کہ پیش گوئی غلط نکلی اور کسی نجومی کی پیشگوئی تھی۔مگر جب انہوں نے توبہ کرلی اور بچ گئے تو صاف ظاہر ہو گیا کہ پیشنگوئی پوری ہو گئی اور اس مہستی کی