انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 600

4۔ہدایات دریل یہ ٹھیک بات ہے اور میں نے بارہا اس پر زور دیا ہے کہ مبلغ کا کام کسی سے منوانا نہیں بلکہ پہنچانا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ مانتے ہی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وکم پہنچاتے ہی تھے۔منواتے نہ تھے۔مگر لوگ مانتے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود پہنچاتے ہی تھے۔منواتے نہیں تھے۔مگر لوگ مانتے تھے۔کیوں ؟ اس لئے کہ صحیح ذرائع کے ماتحت پہنچانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مان لیتے ہیں۔پس ہمارے مبلغ بھی صیح ذرائع پر عمل کریں گے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ لوگ نہ مانیں۔اگر ہم ان باتوں کو جوئیں نے بیان کی ہیں اپنی جماعت کے ہر ایک آدمی میں پیدا کر دیں تو ہر سال ہماری جماعت پہلے کی نسبت دگنی ہو جائے۔کیونکہ کم از کم ایک شخص ایک کو تو احمدی بنا لے اور اگر اس طرح ہونے لگ جائے تو تم دیکھ سکتے ہو کہ ہماری جماعت کس قدر ترقی کر سکتی ہے۔میں پچیس سال کے اندر اندر دنیا فتح ہوسکتی ہے۔اس وقت اگر ہم اپنی جماعت کو بطور تنزل ایک لاکھ ہی قرار دیں تو اگلے سال ڈولا کھ ہو جائے اور اس سے اگلے سال چار لاکھ ، پھر آٹھ لاکھ ، پھر سولہ لاکھ اس طرح سمجھ لو کہ کس قدر جلدی ترقی ہو سکتی ہے۔مگر یہ خیالی اندازہ ہے۔اگر اس کو چھوڑ بھی دیا جائے اور حقیقی طور پر اندازہ لگایا جائے تو دس پندرہ سال کے اندر اندر ہماری جماعت اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ سیاسی طور پر بھی ہمیں کوئی خطرہ نہیں رہ جاتا۔مگر افسوس ہے کہ صحیح ذرائع اور اصولِ تبلیغ سے کام نہیں لیا جاتا اگر ان سے کام لیا جائے اور ان شرائط کو مد نظر رکھا جائے جو میں نے بیان کی ہیں تو قلیل عرصہ میں ہی اتنی ترقی ہو سکتی ہے کہ ہماری جماعت پہلے کی نسبت میں گئے ہو جائے۔اور جب جماعت بڑھ جاتی ہے تو وہ خود تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اگر اس وقت ہماری جماعت میں لاکھ ہو جائے تو ہزاروں ایسے لوگ جو چھپے ہوئے ہیں وہ ظاہر ہو کر ہمارے ساتھ مل جائیں گے۔پس ایک انتظام اور جوش کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔اور اس سال ایسے جوش سے کام کرو که کم از کم ہندوستان میں زلزلہ آیا ہوا معلوم ہو۔اور اگر تم اس طرح کرو گے تو پھر دیکھو گے کہ کسی قدر ترقی ہوتی ہے۔