انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 595

۵۹۵ اور وں کو دیئے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ان چیزوں کا غلط استعمال کر کے انہیں خراب کر لیا ہے اگر ان کی اصلاح کرلی جائے تو وہ بھی ویسے ہی انسان بن سکتے ہیں جیسا کہ دوسرے۔چنانچہ میچوں میں بعض چوروں نے تعلیم پا کر بہت ترقی کرلی ہے۔ان کے باپ یا دادا عیسائی ہوگئے اور اب وہ علم پڑھ کے معزز عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور معزز سمجھے جاتے ہیں۔پس اگر ان لوگوں کی اصلاح کرلی جائے تو یہ بھی اوروں کی طرح ہی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ہمارے مبلغوں کو اس طرف بھی خیال کرنا چاہئے اور ان لوگوں میں بھی تبلیغ کرنی چاہئے۔سولہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے ملنا جلنا سولہویں ہدایت جانتا ہو۔بہت لوگ اس بات کو معمولی سمجھتے ہیں اور اس سے کام نہیں لیتے۔لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اس طرح بہت اعلی نتائج نکلتے ہیں۔رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم ابتداء میں لوگوں کے خیموں میں جاتے اور تبلیغ کرتے تھے۔وہ لوگ جو اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں وہ عام لیکچروں میں نہیں آتے ان کے گھر جا کر ان سے ملنا چاہئے۔اس طرح ملنے سے ایک تو وہ لوگ باتیں سُن لیتے ہیں۔دوسرے ایک اور بھی فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔اور وہ یہ کہ اگر کبھی کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو اگر یہ لوگ ظاہری مدد نہیں دیں گے تو خفیہ ضرور دیں گے کیونکہ ملنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے ایک ذاتی تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اور وہ لوگ جن میں شرافت ہوتی ہے اس کا ضرور لحاظ رکھتے ہیں۔ہمارے مٹر محمد این سابق ساگر چند صاحب میں ملنے کی عادت ہے۔وہ لارڈوں تک سے ملتے رہے ہیں اور اب تک خط و کتابت کرتے رہتے ہیں۔تو ملنے جلنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے انسان بہت سی باتیں سنا سکتا ہے۔جو کسی دوسرے ذریعہ سے نہیں سنا سکتا۔اس لئے ہمارے مبلغوں کو اس بات کی بھی عادت ڈالنی چاہئے اور اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔سترہویں ہدایت سترہویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں اشتہار کا مادہ ہو۔جب تک یہ نہ ہو لوگوں پر اثر نہیں پڑتا۔جب ایثار کی عادت ہو تو لوگ خود بخود کھینچے چلے آتے ہیں۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہم اشیا کس طرح کریں۔کونسا موقع ہمارے لئے ایثار کا ہوتا ہے گر اس کے بہت موقعے اور محل ملتے رہتے ہیں۔مثال کے طور پر ہی دیکھ لو کہ ریل پر سوار ہونے والوں کو قریباً ہر اسٹیشن پر وہ لوگ سوار ہونے سے روکتے ہیں جو پہلے بیٹھے ہوتے ہیں۔سوار ہونے والا ان کی منتیں کرتا ہے خوشامدیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کھڑا ہی رہوں گا لیکن اسے