انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 33

انوار العلوم جلد ۵ صداقت احمدیت تھا کہ اگر باہر جا کہ دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو وہ نہ جائیں گے۔اس پر ایک انصاری اُٹھا اور اس نے کہا۔یا رسول اللہ کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم بولیں ہم نے جب آپ کو خُدا کا رسول مان لیا تو اب کیا ہے اگر آپ نہیں کہیں گے کہ سمندر میں گھوڑے ڈال دو تو ہم ڈال دیں گے ہم موٹی کی جماعت کی طرح نہ کہیں گے کہ جانو اور تیرا خدا جاکر لڑو۔بلکہ جب تک دشمن ہماری لاشوں کو روند کر آپ تک نہیں آئے گا ہم اسے نہیں آنے دیں گے۔) سیرت ابن مشام عربی جلد ۲ ۲۲۶۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء) یہ تھا پھل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اور درخت اپنے پھل ما بہ الامتیاز کی بین شہادت سے پہچانا جاتا ہے۔اب دیکھ لوکس کے پھیل اعلیٰ ہیں۔آیا موسی کے جنہوں نے کہ دیا تھا کہ تو اور تیرا خُدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے یا عیسی کے جس کے خاص حواری نے ان پر لعنت کی تھی۔یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جنہوں نے با وجود باہر جا کر نہ لڑنے کا معاہدہ کیا ہوا تھا یہ کہا کہ اگر دشمن آپ تک پہنچے گا تو ہماری لاشوں کو روند کر ہی پہنچے گا۔جیتے جی ہم اسے آپ تک نہ آنے دیں گے۔کوئی کہ سکتا ہے جوش میں آکر لوگ اس طرح کہہ ہی دیا کرتے ہیں لیکن جب مصیبت آپڑتی ہے تب یہ جوش قائم نہیں رہتا۔مگر انہوں نے یہ زبان سے ہی نہ کہا بلکہ لڑائی میں بھی گئے اور خدا تعالیٰ نے ان کے دعوے کو سچا کرنے کے لئے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے نرغے میں گھر گئے اور ایسے خطر ناک طور پر گھیر گئے کہ عام خبر مشہور ہوگئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔اس وقت ان لوگوں کی کیا حالت ہوئی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک انصاری حضرت عمرؓ سے جنہوں نے سر نیچے ڈالا ہوا تھا آکر پوچھتے ہیں کیا ہوا ؟ وہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔یہ سن کر وہ انصاری کہتے ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے چلے گئے ہیں تو ہمارے یہاں رہنے کا کیا فائدہ۔چلو ہم بھی چلیں اور لڑ کر مر جائیں۔یہ کہ کر وہ گئے اور لڑ کر مارے گئے اور اس سختی سے لڑے کہ جب ان کی لاش کو دیکھا گیا تو اس پر ستر زخم لگے ہوتے تھے گھر اور اخلاص کا نمونہ دیکھتے۔جب دشمن تیر پر تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مار رہا تھا۔تو چند صحابہ آپؐ کے ارد گرد کھڑے ہو گئے جن کی پیٹھیں تیروں سے چھلنی ہو گئیں۔کسی نے ایک صحابی سے پوچھا جب تم پر تیر پڑتا تھا تو کیا تم اُف بھی نہ کرتے تھے۔انہوں نے کہا میں اف اس لئے نہ کرتا تھا کہ کہیں میرا حسیم نہ ہل جائے اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جا پڑے۔یہ تو لڑنے والوں کا حال تھا جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ مرد بہادر اخلاص مستورات مومنین ہوا ہی کرتے ہیں۔مگر یہ اخلاص مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ ص ۲۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ ء : عه سیرت ابن ہشام عربی جلد ۳ م مطبوع مصر ۱۹۳۶ء )