انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 493

انوار العلوم جلد ۵ ۴۹۳ ملائكة الله ہو اور وہ اس میں شامل ہوں تو بشریت کے لحاظ سے ان پر بھی اثرات پڑیں گے۔لیکن نبی بُرے اثرات سے محفوظ ہوتے ہیں۔مگر فرشتے ہر رنگ میں محفوظ ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- عَلَيْهَا مَنْئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ (التحريم :) ملائکہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غلاظ اور شداد ہوتے ہیں۔دوسری کوئی چیز ان پر اثر نہیں ڈال سکتی۔ہاں ان کو جس چیز پر اثر ڈالنے کے لئے کہا جائے اس پر ضرور ڈال دیتے ہیں۔یہ طاقت انسان میں نہیں ہوتی بعض باتوں میں ہوتی ہے اور بعض میں نہیں ہوتی۔یعنی بعض صفات میں انسان بھی ایسا ہوتا ہے مگر من کل الوجوہ نہیں ہوتا۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:- مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَةً أَشِدَّاءُ عَلَى الكَفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ والفتح : ٣٠ ) کہ مومن بھی اشداء ہوتے ہیں مگر کفار پر۔آپس میں وہ ایک دوسرے کا اثر قبول کرتے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے :- يايُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التوبة : ٢٣) اے نبی ! کفار اور منافقین کا مقابلہ کرو مگران کا اثر نہ قبول کرو۔تو مومنوں میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالتے بھی ہیں اور ان کا اثر قبول بھی نہیں کرتے مگر بعض امور ہیں۔اور ملا نگه من کل الوجوہ ایسے ہوتے ہیں کہ کبھی اثر قبول نہیں کرتے۔آٹھویں باتھے یہ ہے کہ ان کی تعداد انسان کے لئے غیر محدود ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ہے :- وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ سَبَكَ إِلَّاهُود والمدثر (٣٢) ملائکہ کی تعداد خدا ہی جانتا ہے۔اور کوئی معلوم نہیں کر سکتا۔نویس باتے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان میں افسر ماتحت بھی ہوتے ہیں یہی نہیں کہ ایک بڑا ہے اور دوسرا چھوٹا مگر اپنے اپنے کام اور جگہ پر سب مستقل ہیں۔بلکہ وہ افسر اور ماتحت کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- قُلْ يَتَوَقَكُمْ مَلَكُ المَوْتِ الَّذِى مُحِلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ۔(السجدة : ۱۲ ) کہہ دے کہ تمہاری روح قبض کرے گا موت کا فرشتہ میں کے سپرد تمہاری جان نکالنے کا کام کیا کرو