انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 428

انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۸ اصلاح نفس مومن کے دو کام قرآن نے موم کا یہی کام مقر نیں فرمایا کہ وہ آپ اُڑے بلکہ یہ کام مقرر کیا ہے کہ وہ آپ بھی اُڑے اور دوسروں کو بھی اُڑائے۔قرآن نے تمہیں چڑیا اور طوطے کی طرح نہیں بنایا بلکہ ایروپلین بنایا ہے تاکہ آپ بھی اڑو اور دوسروں کو بھی اڑا۔تمام قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے۔غرض قرآن نے مومن کے دو کام بتاتے ہیں کہ وہ خود بھی پرندہ بن جائے یعنی خود متقی اور پر ہیز گار بن جائے اور دوسروں کو بھی بنائے۔لوگوں کو کھینچ کر او پر لے آئے اور خدا سے ملائے۔اور یہ لازمی نتیجہ ہے پہلی بات کا۔کیونکہ خدا تعالیٰ پر وہی عاشق ہوگا جسے یقین ہوگا کہ خدا تعالیٰ میں تمام خوبیاں ہیں اور ہم دیکھتے ہیں یہ قدرتی بات ہے کہ جن کو کسی چیز میں خوبیاں معلوم ہوتی ہیں وہ دوسروں کو وہ خوبیاں دکھاتے ہیں۔کوئی تو بدنیتی سے کہ ان کو دوسروں پر فخر حاصل ہو۔اور کوئی نیک نیتی سے کہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔دیکھو قرآن کریم ادھر تو یہ کہتا ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِدُوا صَدَقَتِكُمُ بِالْمَنِ وَالأذى كالَّذِى يُنْفِقُ مَالَهُ دِمَاءَ النَّاسِ (البقرة : ٢٥) ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو ریاء کے طور پر مال خرچ کرتے ہیں۔مگر ادھر کہتا ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدَثُ (الضحى :١٣) کہ لوگوں کو بتا بتا کر خدا کی نعمتوں سے آگاہ کرو۔یہ ریاء نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ لوگ بھی ان کو دیکھ کر ان کے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔غرض ہر قسم کا اظہار ریاء نہیں ہوتا بعض حالات میں ایک بات کا اظہار ریاء ہو جاتا ہے مگر دوسرے حالات میں اسی امر کا اظہار ریا نہیں ہوتا مثلاً اگر ایک شخص اچھے اچھے کپڑے اس لئے پہن کر لوگوں میں جاتا ہے کہ وہ اسے بڑا مالدار مجھیں تو یہ ریاء ہے لیکن اگر وہی شخص عید کے دن یا جمعہ کے دن عمدہ لباس پہن کر نکلے تارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل ہو۔یا مثلاً اگر کہیں بخار پھیلا ہو اور کسی کے پاس کونین ہو اور وہ لوگوں کو بتائے کہ میرے پاس کونین ہے تو یہ ریاء نہیں ہو گا۔اور کوئی نہیں کہے گا کہ یہ اپنی عقلمندی جتا رہا ہے کہ میں نے پہلے سے ہی کو مین رکھی ہوئی تھی۔کیونکہ اس کا اس امر کو ظاہر کرنا ضروری ہو گا تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔تو مؤمن کا فرض اپنا ہی کام کرنا نہیں بلکہ دوسروں کا بھی کرنا ہے۔اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے ان دونوں اقسام کی نیکیوں میں سے کتنا حصہ لیا ہے پہلی باتیں کیوں دوہرائی جاتی ہیں ؟ ان باتوں میں سے جو اصلاح نفس کے متعلق میں اور جو دوسروں کی اصلاح کے لئے ہیں بعض ایسی ہیں کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اور بعض نئی ہیں۔ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ پرانی باتیں پھر ان کو