انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 427

انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۷ ذریعہ سمجھایا کہ تمہاری قوم چار دفعہ اُٹھے گی۔ایک دفعہ حضرت موسی کے ذریعے دوسری دفعہ حضرت مسیح کے ذریعے تیسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اور چوتھی دفعہ حضرت مسیح موعود کے ذریعے۔یہ ان کا کمال تھا کہ موقع تاڑ کر خدا تعالیٰ سے اپنی قوم کے لئے یہ وعدہ لے لیا۔جونہی انہوں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس طرح قوموں کو زندہ کرتے ہیں اور جاؤ جا کر بادشاہ سے اس کے متعلق بحث کرو۔تو وہ بحث کرنے چلے گئے اور آکر کہا بحث تو میں کر آیا ہوں مگر مجھے اس سے کیا فائدہ ؟ مجھے تو میری قوم کے زندہ کرنے کا وعدہ دیں تب بات ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا۔اچھا تمہاری قوم کو بھی زندہ کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت ابراہیم کی نسل سے حضرت مولتی ہوئے جن کے ذریعہ ان کی قوم زندہ ہوئی۔پھر حضرت عیسی ہوئے ان کے ذریعہ قوم زندہ ہوئی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے انہوں نے قوم زندہ کی اور پھر حضرت مسیح موعود ہوئے ان کے ذریعہ قوم زندہ کی گئی۔یہ چار دفعہ ان کی قوم سے زندہ پرندے اُڑے اور اُڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف گئے۔تو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ زندہ پرندے پیدا ہوئے۔جو تقوی اور طہارت کے پروں سے اڑ کر خدا تعالیٰ تک پہنچنے والے ہیں۔مگر دوسروں کے فائدہ سے تمہیں کیا۔بے شک مومن کا دل چاہتا ہے کہ دوسرے بھی فائدہ اُٹھائیں۔مگر اس کا دل یہ بھی تو چاہتا ہے کہ وہ خود بھی فائدہ اُٹھا ہے۔بیشک ہماری جماعت میں بعض لوگ متقی اور پرہیز گار ہیں مگر ان کی وجہ سے تمہیں کسی طرح تسلی ہو سکتی ہے ؟ اگر تم متقی اور پرہیز گار نہیں ہو ؟ دیکھو حضرت ابراہیم کو باوجود نبوت کے تسلی نہ تھی اور وہ چاہتے تھے کہ جو کچھ ملے لے لیں۔اور موقع پاکر انہوں نے جو کچھ مل سکتا تھا لے بھی لیا۔مگر تم اگر متقی بھی نہیں ہو تو تمہیں کیونکر تسلی ہو جاتی ہے ؟ اور تم کیوں آئندہ کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتے ؟ پس تم ابراہیمی سنت پر چلو اور بھی تسلی نہ پاؤ بلکہ خدا تعالیٰ سے مانگتے ہی رہو اور اس وقت تک لیتے ہی رہ ہو جب تک کہ تمہیں ملتا ر ہے پس تم وہ رستے تلاش کرو کہ اوپر ہی اوپر اڑتے رہ ہو۔خدا تعالیٰ نے تمہارا نام پرندہ رکھا ہے پھر تم پرندے ہو کر غاروں میں کیوں گھسو ؟ حضرت ابراہیم کو خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اُلو پالو۔بلکہ یہ کہا تھا کہ پاک اور روشنی کو پسند کرنے والے پرندے پالو۔اور انہوں نے ایسے ہی پرندوں کو پالا تھا پھر تم کیوں اندھیرے کو پسند کرو ؟ پس تم اپنی حالتوں پر مطمئن نہ ہو جاؤ بلکہ کوشش کرو کہ خدا تعالیٰ ہر روز تمہاری حالت کو اور بلند کرے۔قرآن کریم نے اس ترقی کے لئے دو رستے بتائے ہیں۔