انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 426

انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۶ اصلاح نفس وقت سے اب تک ہم نے کتنی ترقی کی ہے۔حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ نبی صرف بیج بویا کرتا ہے اور آپ نے ایسا ہی کیا۔اس زمانہ میں لوگ شور مچا رہے تھے کہ تقوی اختیار کرو۔تقوی اختیار کرو مگر نہ کوئی ان کی بات سنتا اور نہ کوئی تقوی اختیار کرتا لیکن جب حضرت مرزا صاحب نے اگر کہا کہ تقویٰ اختیار کرو تو جو سعید لوگ تھے وہ کھڑے ہو گئے۔اور انہوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا۔گو اکثر لوگوں نے توجہ نہ کی۔پھر آپ نے پہلے سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ لایا اس پر کچھ اور لوگ نکل آئے۔پھر آپ نے اس سے بلند آواز کے ساتھ پکارا اور اس پر دائیں بائیں آگے پیچھے غرض چاروں طرف سے لوگ نکل آئے اور انہوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا : تب خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا پنج لیا اور ان زمینوں میں ڈالا جو اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھیں اور پھر ان کی آبپاشی کی۔جب وہ بیج اگ آیا تو سنت اللہ کے ماتحت مسیح موعود فوت ہو گئے۔اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ پیج ترقی کر کے کس حد کو پہنچ گیا ہے ؟ اگر وہ بلند نہیں ہوا اور بڑھا نہیں تو کیا یہ فکر اور اندیشہ کی بات نہیں ہے ؟ کیونکہ جو بیج نہیں بڑھتا وہ خشک ہو جاتا ہے پس وہ بیج جو حضرت مسیح موعود نے تمہارے قلب میں بو یا دیکھو کہ اس نے کچھ ترقی کی یا نہیں ؟ اگر کوئی ترقی نہیں کی تو بتاؤ تم نے اس کے لئے کیا فکر کیا ہے ؟ بیشک تم لوگوں میں اخلاص اور محبت ہے اور دین کے لئے قربانی کرنے کی روح بھی ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ایک جماعت ہوگی جو حضرت مسیح موعود کے بوئے ہوئے درخت کو بڑھائے گی اور دنیا اس کے نیچے لیے گی۔مگر ہر شخص اپنے نفس کے متعلق غور کر کے دیکھے کہ وہ بھی ان میں ہوگا یا نہیں ؟ اگر وہ نہیں ہو گا تو اسے کیا فائدہ؟ کیا ایک بھو کا اس طرح سیر ہو سکتا ہے ؟ کہ اس کے ہمسایہ نے کھانا کھا لیا ؟ یا ایک ننگا اس طرح اپنی ستر پوشی کر سکتا ہے کہ اس کے ہمسایہ نے کپڑے پہن لیئے ؟ یا ایک پیاسا اس طرح اپنی پیاس بجھا سکتا ہے کہ اس کے ہمرا ہی نے پانی پی لیا ؟ اگر نہیں تو تم اس بات پر خوش نہ ہو کہ بعض تم میں سے نیک اور متقی ہیں اور ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔بلکہ اپنے متعلق دیکھو تمہارا کیا حال ہے ؟ تمہارے دل میں جو بیج ڈالا گیا ہے وہ کس حالت میں ہے ؟ حضرت ابراہیم کی سنت کو یاد رکھو۔جب خدا تعالیٰ نے انہیں بتایا ابراہیمی سنت پر چلو کہ میں مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔ادھر بادشاہ سے اس مضمون پر مقابلہ بھی کر دیا، اور زندہ کرنے کی مثال بھی دے دی جب انہیں خدا سے مکالمہ نصیب ہوا تو چونکہ دور اندیش اور عقلمند انسان تھے سب کچھ سن کر کہا۔یہ تو تب ٹھیک ہے لیکن مجھے کس طرح اطمینان ہو ؟ گویا مطلب یہ کہ مجھے زندہ کیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تمہیں زندہ کریں گے اور مثال کے