انوارالعلوم (جلد 5) — Page 424
انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۴ اصلاح نفس نوکروں کا آقا کے متعلق جس طرح مُلِكِ النَّاسِ میں دو فسادوں کا ذکر تھا ایک بادشاہ کا رعایا کے متعلق اور دوسرا رعایا کا بادشاہ کے خلاف اور جس طرح اللہ النَّاسِ میں دو فسادوں کا ذکر تھا ایک پادریوں ، پنڈتوں اور مولویوں کے متعلق اور دوسرا عوام کے متعلق۔اسی طرح اس آیت میں کہ شر الوسواس الْخَنَّاسِ، الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ هِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ، یہ بتایا ہے۔کہ دونوں فریقوں کی انجمنیں اور کمیٹیاں ہوں گی۔صرف ایک فریق کی نہیں۔اگر صرف شر الوسواس الْخَنَّاسِ ٥ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ٥ ہوتا اور ساتھ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ : ہوتا۔تو پہلے حصہ کے متعلق ایک فریق کہنا کہ اس میں دوسرے کا ذکر ہے اور دوسرا فریق کہتا کہ اس میں پہلے کا ذکر ہے۔مگر اس میں بتا دیا گیا کہ دونوں فریق کا یہی حال ہوگا۔کچھ بڑے لوگ ہوں گے اور کچھ چھوٹے۔وہ فساد جو آقا نوکروں کے خلاف کریں گے وہ بھی انتظام کے ماتحت ہوگا اور وہ فساد جو نوکر آقا کے خلاف کریں گے وہ بھی انتظام کے ماتحت ہوگا پھر وہ فساد جو رعایا بادشاہ کے خلاف کرے گی یا بادشاہ رعایا کے خلاف کرے گا اس میں بھی انتظام ہو گا۔اسی طرح وہ فساد جو اللہ کے خلاف ہوگا یا وہ جو اللہ کے جھوٹے ظل لوگوں کے خلاف کریں گے وہ بھی انتظام کے ماتحت ہو گا۔موجودہ زمانہ کے فسادات کے متعلق یہ ایسی صاف اور واضح جنگوئی زمانہ موجودہ کے فساد ہے کہ اگر دشمن کے سامنے بھی پیش کی جائے گی تو وہ بہکا بکا رہ جائے گا۔اب دیکھو یہی فساد دنیا میں ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ کارخانوں کے ملازم ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ سٹرائیکس کرو اور اپنی انجمنیں بناؤ۔اسی طرح مالک اپنی انجمنیں بنا رہے ہیں۔تاجر آقا اپنی انجمنیں بنا رہے ہیں۔زمیندار آقا اپنی اور اسی طرح دوسرے آقاؤں کی انجمنیں بن رہی ہیں۔پھر ہر قسم کے ملازم اور نوکر اپنی انجمنیں بنا رہے ہیں۔اس موقع کے لئے ایک مومن کو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے تو یہ کہ کہ اَعُوذُ بِرَتِ النَّاسِ میں پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ ان میں سے کسی میں بھی شامل ہوؤں۔پھر اس وقت بادشاہ رعایا کو تباہ کرنے میں لگے ہوں گے۔اور رعایا بادشاہوں کے خلاف جوڑ توڑ کر رہی ہوگی۔اس وقت ایک مومن یہی کہے گا۔کہ مَلِكِ النَّاسِ میں نہ تو ایسی باغی رعایا میں سے بنوں اور نہ ایسے ظالم بادشاہ کی طرح پھر وہ یہ کہے گا کہ نہ تو میں الیسا بنوں کہ جھوٹے طور پر علم کے ذریعہ لوگوں کو اپنا غلام بناؤں اور نہ ایسا کہ سچی باتوں کو بھی نہ مانوں۔اے خدا ! ان سب باتوں سے