انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 400

انوار العلوم جلد ۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب سوال ہی پیش کر دیں اور میرے جواب پر جرح کرنے پر ہی اکتفاء کریں۔میں اس جگہ پروفیسر صاحب کی اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کر دینا چاہتا ہوں کہ الزامی جوابات کی اجازت نہ ہوگی میرے کسی حصہ مضمون میں یہ بات نہیں آئی کہ الزامی جوابات کی اجازت نہ ہوگی۔مجیب کے دائرہ جواب کو محدود نہیں کیا جا سکتا اگر وہ ایسے الزامی جواب ہی دیگا جس سے یہ علوم ہو کہ اگر اس کا مذہب جھوٹا ہے تو معترض کا بھی جھوٹا ہے تو خود اُسے نقصان پہنچے گا لیکن اگر وہ سائل کو یہ بات سمجھانے کے لئے کہ جس بات کو وہ صداقت کے خلاف سمجھتا ہے وہ صداقت کے خلاف نہیں کیونکہ وہی یا ویسی ہی بات یا اس سے بڑھ کر کوئی بات اس مذہب میں موجود ہے جسے وہ سچا سمجھتا ہے تو اس کو اس امر سے روکنا انصاف کے بالکل خلاف ہے۔الزامی جواب ہمیشہ کمزوری پر دلالت نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات ایک صداقت کو منوانے کے لئے سب سے چھوٹا راستہ ہوتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی انسان پر یہ اعتراض کرے کہ تو شریف آدمی نہیں ہے اور میں شریف آدمی ہوں کیونکہ تو فلاں کام کرتا ہے اور وہ کام شرافت کے خلاف نہ ہو اور وہ شخص جس پر اعتراض ہوا ہے آگے سے یہ جواب دیدے کہ یہ کام تو تو بھی کرتا ہے تو اسے کوئی الزامی جواب کہہ کر کمزور نہ کہے گا۔یہ جواب تو سب سے زیادہ قریب الضم ہوگا اور بہت جلد دوسرے آدمی کی سمجھ میں آجا ویگا کہ میری غلطی تھی۔الزامی جواب اسی وقت کمزور ہوتا ہے جبکہ وہ بات جس پر اعتراض کیا گیا ہو واقع میں بڑی ہو اور مجیب اپنے عیب کو اس پردہ میں چھپانا چاہے کہ دوسرا بھی ویسے ہی عیب میں مبتلاء ہے۔غرض الزامی جواب کا دروازہ بند نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کی بعض اقسام حقیقی جواب ہی کی طرح مضبوط ہوتی ہیں اور تصفیہ کی صورت پیدا کرنے میں بہت محمد ہوتی ہیں۔اس جگہ ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ الزامی جواب اعتراض کا رنگ رکھتا ہے اور جب مجیب کو الزامی جواب دینے کی اجازت ہوگی تو گویا اس حصہ میں مجیب سائل ہو جائیگا اور سائل مجیب ہو جائیگا اور وہی بے انصافی کا سوال آجائیگا کہ آخری پرچہ سائل کا ہوگا سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے انصافی کے دُور کرنے کے لئے یہ صورت کی جاسکتی ہے کہ مجیب کے پہلے پرچہ میں جو الزامی جوابات آئیں ان کے جواب یہ سائل دے تو اس حصہ کی بحث و ہیں ختم سبھی جائے۔اپنے آخری پرچہ میں ان الزامی جوابات کا ذکر مجیب نہ کرے، ہاں یہ ضروری ہوگا کہ مجیب کے جواب پر یہ نوٹ کر دیا جائیگا کہ اسے ان الزامی جوابات کا جواب الجواب دینے کی اجازت نہ تھی۔