انوارالعلوم (جلد 5) — Page 387
انوار العلوم جلد ۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ہوتا ہے کہ گویا میری طرح محبوب کے عشق میں دور ہی ہے اور گنتی جار ہی ہے۔اگر کوئی شخص واقع میں یہ سمجھ لے کہ شمع روتی ہے تو پھر یہ شاعرانہ نازک خیالی نہ رہے گی بلکہ وہم ہو جائے گا یہ پس شاعرانہ نازک خیالی اور و ہم دو مخالف چیزیں ہیں اور ایک شخص کا وہم اسی شخص کی شاعرانہ نازک خیالی نہیں کہلا سکتا نہ کسی کی نازک خیالی و ہم کہلا سکتی ہے۔پس پروفیسر رام دیو صاب کا یہ فقرہ کہ سید امیر علی صاحب کے نزدیک فرشتوں کا وجود محمد صاحب کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی ہے اپنی آپ ہی تردید کر دیتا ہے۔جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے سید صاحب نے ہرگز یہ نہیں لکھا کہ فرشتوں کا ذکر جو قرآن میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم تھا۔انھوں نے صرف یہ لکھا ہے کہ بدر کی جنگ میں فرشتوں کے اترنے کا جو واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے اس کی عبارت شاعرانہ رنگ کی ہے۔09- لکھتے ہیں:۔قرآن کریم کے وہ چند سادہ بیان جو اس شاعرانہ رنگینی کو ظاہر کرتے ہیں جو فرشتوں کے خدا کی طرف سے لڑنے کے خیال میں پوشیدہ ہے اپنی شان اور دل آویزی میں زبور کے فصیح ترین حصوں سے بھی کم نہیں ہیں۔یقیناً ان دونوں بیانوں میں شاعرانہ رنگ نظر آتا ہے۔" ان فقرات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسٹر سید امیر علی صاحب فرشتوں کے وجود کے متعلق نہیں بلکہ ان کے لڑائی میں شامل ہونے کے متعلق یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ اس میں شاعرانہ رنگینی پائی جاتی ہے۔دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ فرشتوں کے وجود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم نہیں بتاتے بلکہ فرشتوں کے لڑائی میں شامل ہونے کے ذکر کو شاعرانہ رنگ کا کلام ظاہر کرتے ہیں۔جس کے دو معنے ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ وہ فرشتوں کے لڑائی میں شامل ہونے کے منکر نہیں بلکہ اس عبارت کی رنگینی اور فصاحت کا اظہار کرتے ہیں اور زبور جس پر میچیوں کو ناز ہے اس کا مقابلہ کر کے اس کی خوبی مسیحیوں پر ظاہر کرتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس جگہ فرشتوں کے لڑنے سے قرآن کریم کی مراد واقع میں لڑنا نہیں ہے بلکہ خدا تعالٰی کی نصرت کو اس شاعرانہ کلام کے ذریعہ سے بیان کیا گیا ہے اور مجاز اور استعارہ کو استعمال کیا گیا ہے اور کیا پروفیسر صاحب اس امر کے قائل نہیں کہ خود ان کی اپنی مذہبی کتب میں مجاز اور استعارہ کا استعمال کیا گیا ہے اور کیا کوئی شخص اگر اہل ہنود کے اس کلام کے کہ ان کی مذہبی کتب میں مجاز اور استعارہ کا جو حسن کلام کی اعلیٰ صفتوں میں سے ہیں استعمال کیا گیا ہے یہ معنے کرے کہ اہل ہنود کے نزدیک ان کی مذہبی کتب